آئینے سے نظر چرانے لگے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آئینے سے نظر چرانے لگے
ہم جو خود سے فریب کھانے لگے
اس کے کوچے میں آنے جانے لگے
پھر کہیں بھی نہ ہم ٹھکانے لگے
وہ ہمارے قریب آنے لگے
اور ہم خود سے دور جانے لگے
اس نظارے کا رنگ اڑنے لگا
آپ جس سے نظر چرانے لگے
کھوئی کھوئی سی وہ بھی رہنے لگی
بے سبب ہم بھی مسکرانے لگے
میری باتوں کا کچھ جواب نہ تھا
وہ مرا مضحکہ اڑانے لگے
راہ میں ہیں شراب سے فتنے
ہم ذرا چل کے لڑکھڑانے لگے
اپنی اپنی چمک بڑھانے کو
اب دیے ہی دیے بجھانے لگے
میرے ہاتھوں میں دیکھ کر پتھر
وہ مجھے آئینہ دکھانے لگے
میر کی یاد ہو گئی تازہ
شاد جی شاعری سنانے لگے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
خ
خبیب حسن
17 اپریل، 2019خوب🌹🌹





