ہمیں اس بات کا اعتراف کرنے میں کسی قسم کا تامل نہیں کرنا چاہیے کہ آج دنیا میں معاشرتی بگاڑ سب سے زیادہ مسلمانوں میں ہے۔کردار ہو یا گفتار،
مسلمانوں کی معاشی بدحالی ہی وہ سنگین مسئلہ ہے جو انھیں ہر میدان میں پیچھے رکھتا ہے۔اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کرنا اور بہتری لانے کے لیے دور رس حکمت عملی اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔لیکن ستم یہ ہے کہ اس معاشی ابتری کو اپنی بحث کا موضوع بنانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں۔یہ مسئلہ اگر صرف بر صغیر ہند کا ہوتا تو کوئی بڑی بات نہ تھی کہ یہاں مسلمان اقلیت میں ہیں،
مسلمانوں کے پاس قرآن کی شکل میں ایک ایسی بے مثال ربانی کتاب موجود ہے جو آداب زندگی کے ہر پہلو کو پوری عمدگی کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ماضی میں اسی کتاب کی تعلیمات کو اپنا کر مسلمانوں نے ایک درخشاں تاریخ رقم کی ہے جس کا ایک ایک ورق سنہرے حروف سے مزین ہے۔واضح رہے یہاں مسلمانوں کی روشن تاریخ کا اشارۃً ذکر کرنے سے اپنے اجداد کے کارناموں پہ فخر کرنا یا ماضی تمنائی میں جینے کا ارادہ بالکل نہیں بس یہ بتلانا مقصود ہے کہ جب لوگوں نے قرآن اور اسلامی احکام کو درس زندگی سمجھا اور اسی نہج پر لوگوں کی تربیت کی گئی تب اس تربیت یافتہ جماعت نے بہت ہی مختصر عرصے میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی،
اس کے برعکس اگر متمدن اور ترقی یافتہ ملکوں کی سماجی حالت پر ایک سرسری نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ قرآنی تعلیمات کا اصل مفہوم انھوں نے سمجھا اور بہت حد تک اسے اپنے سماج میں نافذ بھی کر رکھا ہے۔
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک معروف ماہر اقتصادیات اسکالر حسین عسکری کا کہنا ہے کہ قرآنی تعلیمات کا عملی نفاذ اسلامی ممالک کے مقابل مغربی ممالک میں زیادہ بہتر ہے۔اسلامی ممالک سیاست سے لے کر کاروبار،
دنیا کے 208 ممالک اور خطوں کے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ اقتصادی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ سماجی اقدار کو زمینی سطح پر قابل عمل بنانے میں جن ممالک کا سب سے نمایاں مقام ہے وہ ہیں آئرلینڈ،
پروفیسر حسین عسکری اسی جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی بزنس اور بین الاقوامی معاملات کے ایک ایکسپرٹ ہیں ان کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک ریاست کو کنٹرول کرنے کے لیے مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ بہت سارے ممالک جو اسلامی ملک ہونے کا دعوی کرتے ہیں وہ نامنصف اور ظالم ہیں،
جن ملکوں کی پالیسیوں اور کامیابیوں میں اسلامی معاشی تعلیمات کی چھاپ زیادہ گہری دکھائی دیتی ہے،
کسی ملک یا معاشرہ میں اگر غیر منتخب،
دنیا میں مسلم ممالک کی تعداد تقریبا 56 ہے اور یہ سب کے سب اسلامی بینر تلے IOC کے ایک پلیٹ فارم پر یکجا بھی ہیں،
سرمایہ داری نظام ایک ایسا نظام ہے جس میں ملکی معیشت کی باگ ڈور چند صاحب ثروت لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔وہی لوگ ملک کی معیشت کو زیر و زبر کرنے کا پورا اختیار اپنے پاس رکھتے ہیں اور آن کی آن میں معیشت کی منڈی کو اتھل پتھل کر رکھ دیتے ہیں۔اشیاء کا نرخ کیا ہو وہی طے کرتے ہیں یہاں تک کہ زرعی اشیاء جو کسانوں کا پروڈکٹ ہے اس کا مارکیٹ بھاؤ بھی یہی سرمایہ دار طے کرتے ہیں کسانوں کو دخل اندازی کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔حد تو یہ ہے کہ حکومتیں ٹیکس عائد کرتے وقت انہی سرمایہ داروں کی رضامندی کے عندیہ کی منتظر رہتی ہیں۔ٹیکس حقیقت میں ایک ایسا محصول ہے جس سے غریب عوام تو بچ ہی نہیں سکتے اور اس کی پاداش میں ان کی کمر دوہری ہوجاتی ہے۔
کچھ اسلامی ممالک کے پاس دولت کی اس قدر ریل پیل ہے کہ اگر وہ چاہیں تو دنیا کے بڑے دماغوں کو اجرت پہ رکھ کر ایک جامع اور مستحکم معاشی نظام تشکیل دیں جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پہ رکھی جائے اور جہاں سودی کاروبار سے مکمل چھٹکارا مل سکے۔اسلامی بینکنگ کے نام پر جو تجارت شروع کی گئی وہ ایک اچھا قدم ہے لیکن بہت محدود ہے۔اس کا دائرہ وسیع کرنے کی سخت ضرورت ہے۔مگر افسوس! اس سمت میں بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوسکی اور مسئلہ کھٹائی میں پڑگیا ہے۔
دنیا کے تمام اسلامی ممالک اسی سرمایہ دارانہ نظام کو اپنی ترقی کا ضامن سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے ان کی اقتصادیات مغربی ممالک کے دست تصرف میں ہے وہ جب چاہیں ان کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔اس سرمایہ دارانہ نظام میں فقط چند پونجی پتی داد عیش دیتے ہیں اور بقیہ نان شبینہ کے محتاج رہتے ہیں۔اس ظالمانہ سسٹم سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بجائے مذہبی طبقے کی طرف سے ایک تازیانہ اس شکل میں آیا کہ تنگ دستی اور مفلسی کی وضع کو تقدیر کا جزو ثابت کر دیا گیا اور اس طرح عوام نے اس نظام سرمایہ داری کی پیدا کردہ برائیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا۔
فی الحال اگر کوئی متبادل نظام نہیں ہے اور سرمایہ داری نظام ہی ناگزیر ہے تو وقتی طور پر اس کی خامیوں کی جراحی ہونی چاہیے،
سماجیات پر ریسرچ کرنے والے اور اپنے گرد و پیش پر گہری نظر رکھنے والے لوگ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جب تک انسان کی معاشی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں اس کے اندر ان گنت خرابیاں پنپتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اخلاقیات سے بھی عاری ہوجاتا ہے اور امیروں کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر ٹکٹکی نگاہوں سے ان کی عطیات اور بخششوں کا منتظر رہتا ہے۔جس معاشرے میں انسان کی معیشت اچھی ہو وہ صحتمند ہوتا ہے۔بنیادی وسائل کی فراہمی اسے ترقی کی راہیں دکھاتی ہے اور وہ نت نئے انکشافات کے ذریعے معاشرے کو استحکام بخشتا ہے۔بصورت دیگر جو سماج معاشی بدحالی کا شکار ہو وہاں کا انسان ضروریات زندگی کے حصول میں تگ ودو کرتے کرتے اپنی عمر عزیز گنوا بیٹھتا ہے۔دن بھر کی تھکان سے چور گھر لوٹتے ہی چھوٹی چھوٹی اور نہایت معمولی باتوں پر گھریلو جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں اور ایک دن اسی دہکتے ہوئے دوزخ میں مر کھپ جاتا ہے۔اسی پراگندہ ماحول میں اس کی نسلیں بوڑھی ہو کر بے مائیگی کا یہی سرمایہ آنے والی نسلوں کو منتقل کرکے فنا ہوتی رہتی ہیں۔صاحب ثروت اور اشرافیہ طبقے کے لوگ ان مفلسوں کو حقارت آمیز نظروں سے دیکھتے ہیں اور جتنے غلیظ کام ہیں وہ سب انہی کے حصے میں ڈال دیتے ہیں۔
سرمایہ داری نظام سے پہلے جاگیرداری نظام بھی انسانی قدروں کو پائمال کیا کرتا تھا۔جاگیردار جو حکومت وقت کی عطا کردہ زمینوں کا مالک اور محنت کش انسانوں کا براہ راست حاکم ہوتا تھا اس کے مظالم کچھ کم نہ تھے۔تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ جاگیردار مزدوروں کو صرف اتنی اجرت دیا کرتے تھے جس سے ان کے جسم کی توانائی برقرار رہے اور وہ محنت کرنے کی قابلیت سے محروم نہ ہوں۔حکمراں طبقے کے ساتھ یہ جاگیردار کسی نہ کسی صورت تمام جائیداد کے مالک بنے ہوتے تھے اور بنا کچھ کیے دھرے عیش و تنعم میں جیتے تھے۔پھر وقت نے پانسہ پلٹا اور ایک نیا طبقہ وجود میں آیا جو بورژوا یعنی اشرافیہ کہلایا۔
اسی ٹرانزیشن پیریڈ کے دوران مختلف شہروں میں جب تجارتی منڈیاں قائم ہونے لگیں،
دوسری طرف اسی عہد میں محنت کش طبقے کی اذیتیں روز بروز بڑھتی جا رہی تھیں۔کمزوروں اور مزدوروں پر ظلم و تشدد اور ان کے حق میں عدم مساوات نے پورے سماج کو آتش فشاں بنا دیا تھا جو کسی بھی لمحہ پھٹنے کے لیے تیار تھا۔دن رات کام کرنے کے بعد محنت کشوں کو نہ مناسب اجرت ملتی تھی اور نہ ہی انھیں آرام نصیب ہوتا تھا گویا وہ انسان نہیں بلکہ مشین بن گئے ہوں۔انسانی ظلم کے خلاف دھماکہ خیز مادہ تیار ہوچکا تھا بس بارود کو آگ لگانے کے لیے ایک چنگاری کی ضرورت تھی۔
آج سے تقریبا ڈیڑھ سو سال پہلے آخر وہ گھڑی آ چکی تھی جب مزدوروں کو ان کا حق دلانے کے لیے جرمن فلسفی کارل مارکس نے اشتراکیت کا اس قدر پر شور نعرہ بلند کیا کہ اسے سنتے ہی پورا یوروپ تھرا گیا اور اس کی صدائے بازگشت پوری دنیا میں گونج اٹھی۔یہ مارکس ازم کسی مفروضے پر قائم کیا ہوا کوئی نظریہ نہیں بلکہ انسانی سماج کا ارتقا تھا۔طبقاتی جبر و استحصال کے خلاف بے رحم جنگ کا اعلان تھا۔پرولتاریہ یعنی مزدوروں اور کسانوں کو مساوات اور اشتراکیت کی نوید سنا کر سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کا داعی تھا۔
بہت ہی مختصر وقفے میں اشتراکیت نے لوگوں کے دلوں میں گھر کرلیا۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہر پڑھا لکھا شخص خود کو کمیونسٹ اور اشتراکی کہہ کر دوسروں پر اپنی برتری کا اظہار کیا کرتا تھا۔بڑے بڑے دانشور اور قلندر بھی اس کی چپیٹ میں آ چکے تھے۔شمال مشرقی یوروپ کے ساتھ سوویت روس پورے ستر سال تک اشتراکیت کی مثال بنا رہا۔اشتراکیت کی درانتی کئی عرب ممالک کو بھی اپنے دامن میں سمو چکی تھی۔اس دور میں مزدوروں پر جو قہر برپا تھا اشتراکیت کا نعرہ اس کے لیے موت کا جرس ثابت ہوا اور اشتراکیت کے علمبرداروں کو مسیحا سمجھا گیا۔کارل مارکس کی آواز در اصل نئی نہیں تھی اس سے پہلے بھی چھٹی صدی عیسوی کے وسط ساسانیوں کے عہد حکومت میں جب عام انسانوں پر ظلم اور جابرانہ طرز حکومت کا ستم ایجاد ہوا تھا تب بھی انسانوں کی برابری کو عام کرنے کے لیے ایرانی فلسفی مزدک نے کچھ اصول وضع کیے،
اشتراکی معاشی نظام جو سرمایہ داری کے استحصال کی رد عمل میں ابھرا تھا اس کا پیغام پوری دنیا میں سر چڑھ کر بول رہا تھا لیکن اس کے منشور میں موجود کچھ غیر فطری اصولوں کی وجہ سے سرمایہ داری کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔سرمایہ داری کا عفریت اس قدر سخت جان نکلا کہ اشتراکیت کے پے در پے حملوں کے باوجود شوریدہ سر ہو کر ابھرا اور پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ عالمی معاشی نظام کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
آج ایک بار پھر محنت کشوں اور مزدوروں پر سختیوں کے وہی دن لوٹ آئے ہیں جہاں ان سے علی الاعلان کئی کئی گھنٹے اضافی کام لیے جاتے ہیں اور معاوضے کے نام پر چند سکے پکڑا دیے جاتے ہیں جبکہ ان مزدوروں کی محنت کی بدولت کمپنیاں اپنی تجارت کو فروغ دیتی ہوئی پورے ملک اور بسا اوقات عالمی پیمانے پر وسعت عطا کرتی ہیں۔ان کی آمدنی میں ہر سال کئی گنا اضافہ درج کیا جاتا ہے۔دوسری طرف مزدوروں کا استحصال اس قدر ہو رہا ہے کہ وہ پوری زندگی کام کرنے کے باوجود جب ریٹائر ہوتا ہے تو وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے دو وقت کی روٹی سکون سے میسر آسکے اور اس کے بچوں کی ڈھنگ سے کفالت ہوسکے۔
آج نگاہیں منتظر ہیں ایک ایسے ریفارمر کی جو معاشرے میں انقلاب برپا کرسکے۔آج ضرورت ہے ایک ایسے میکینزم کی جو اللہ تبارک وتعالی کے پیدا کردہ وسائل سے استفادے کی راہ ہموار کرے اور جس سے انسانی احتیاجات کی تکمیل ہوسکے۔آج انسانی زندگی کو درپیش تمام مسائل پر سنجیدگی سے بحث کرنا از حد ضروری ہے۔معاشی مشکلات کو حل کرنے،
سرمایہ داری نظام تمام وسائل اور منڈیاں اپنے تصرف میں رکھتا ہے تاکہ استحصال بھرپور کرسکے اس کے برعکس اسلام انفرادی ملکیت کے حق کو تسلیم کرتا ہے جو ایک فطری چیز ہے لیکن اسے اجتماعی مفاد کے تابع رکھتا ہے تاکہ کسی کی انفرادی ملکیت سے دوسرے کا استحصال نہ ہو۔جبکہ سرمایہ داری نظام میں مفاد عامہ کا کوئی تصور ہی نہیں وہاں تو مزدور بھی ایک وسیلہ ہے۔اسی لیے آج کی دنیا میں Human Resource (انسانی وسائل) ایک معروف اصطلاح بن چکا ہے اور ہر کمپنی میں اسے کنٹرول کرنے کا ایک مضبوط ادارہ موجود ہے۔
مسلمانوں کو اگر باوقار زندگی جینا ہے تو انھیں اسلامی اصولوں پر مبنی معاشی نظام قائم کرنا ہوگا جہاں حاکم و محکوم دونوں کے حقوق محفوظ ہوں اور استحصال کی کوئی گنجائش نہ رہے۔اسلامی تعلیمات کو مجتہدانہ نظر سے پڑھنا اور غور و فکر کرنا لازمی ہے۔قرآن کو صرف تبرک اور ذریعہ ثواب سمجھ کر پڑھنے کے بجائے اس کی آیتوں پر تدبر کرنا اور اس کو سمجھنے کی دعوت کو عام کرنا لازمی ہے تاکہ عہد ماضی کی طرح اسلامی معاشرہ ایک بار پھر سے مثالی معاشرہ بن سکے اور اقوام عالم میں مسلمان سربلند ہو کر اسلامی زندگی کا ثبوت دے سکے!!





