جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کتاب: مرے عشق کی انتہا

کلام: شمس الرب خان26 اپریل، 20191,434قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تو ہی ابتدا مرے عشق کی تو ہی انتہائے جنوں مری
ترا لفظ لفظ ہے بندگی تو ورق ورق مری زندگی
تو ہی علم ہے تو شعور ہے تو ہی معرفت تو ہی آگہی
تو بصیرتوں کا چراغ ہے تو ہی ذہن و دل کی ہے روشنی
تو سرور ہے تو ہی کیف ہے تو خمار ہے تو ہی سرخوشی
ترا حرف حرف افیم ہے تو ہے ہوش والوں کی بیخودی
تو ہی سنج ہے تو ہی تان ہے تو ہی لے کی جاں تو ہی_زمزمہ
تو ربابِ روحِ بلند ہے تو ہی سازِ عرفاں کی نغمگی
تو مکاں بھی ہے تو ہی لامکاں تونشانِ منزلِ جاوداں
تو ہی نورِ آتشِ شمسؔ ہے تو ہی شوقِ قطرہ کی قلزمی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کتاب: مرے عشق کی انتہا - دی فری لانسر | دی فری لانسر