پچھلے چار سالوں سے ہمیں بار بار یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کے خورد و نوش کے طریقے ہندو۔مخالف اور قوم مخالف ہیں؛
یہ پروپیگنڈہ مسلمانوں کے خلاف اصل دہشت پھیلانے کا ضامن ہے؛
لنچنگ،
اس لئے ہمیں یہ لگنے لگا ہے کہ مسلمانوں نے خاموش رہنے کا فیصلہ اس لئے کیا ہے تاکہ وہ ہندوتوکے مقابلے میں نہ آئیں اور یہ کہ وہ ۲۰۱۹ میں اپنے ووٹ کارڈ بھی نہ کھول لیں۔یہ سادہ سا نتیجہ بہت ہی پیچیدہ ہے۔اضطراب جسے ہم ـ مسلم خاموشی ــ کہتے ہیں اسے ہمیں ضرورواشگاف کرنا چاہیے تاکہ مضبوط شواہد پہ مبنی ایک گہرا تجزیہ کیا جاسکے۔
جواب دہی کے لئے یہ سوالات پوچھے جا سکتے ہیں:
(الف) کیا مسلمانوں کا سیاسی رجحان بدل گیا ہے،
(ب) کیا مسلمان ہندوستان کی دوسری کمیونٹیز سے الگ سوچتے ہیں؟
یہ بات قابل غور ہے کہ بی جے پی مسلم تشخص کو غیر کی حیثیت سے استعمال کر رہی ہے تاکہ ہندوتو ووٹ بینک کی کاشت کی جاسکے۔اس تعلق سے ۲۰۱۴ کے بعد کی بی جے پی کی سیاست ایک فیصلہ کن معاملے کی نشاندہی کرتی ہے۔
پچھلی حکومت کے برعکس،
بہرحال مسلم رد عمل بہت مختلف رہا،
اسے سمجھنے کے لئے ہم بابری مسجد کو ایک مثال کے طور سے لے سکتے ہیں۔
سورس: این ای ایس ۲۰۰۹،
سورس: این ای ایس ۲۰۰۹،
موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کے دکھائی دینے والے سکوت کو سمجھنے کے لئے ہمیں مسلمانوں کی رائے پر بھی قومی جذبات کے تعلق سے ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔
سی ایس ڈی ایس۔لوک نیتی کا حالیہ موڈ آف نیشن نامی سروے ہمیں دوسرے اہم نتائج فراہم کرتا ہے۔سروے کے مطابق بی جے پی کی رہنمائی میں این ڈی اے حکومت کی شہرت کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے۔سروے کےمسلم جواب دہندگان بھی اسی کے قائل ہیں۔ان کا خیال ہے کہ مودی حکومت کو دوسرا موقعہ نہیں دیا جانا چاہئے۔موجودہ حکومت کے تیئں یہ مسلم مخالفت اس قومی جذبہ سے انحراف نہیں کر رہی جسمیں خاص طور سے اکثریت کا بھی یہ جواب(۴۷پرسنٹ) ہے کہ مودی حکومت ملک کے لئے بالکل بھی مناسب نہیں۔
اسی طرح موجودہ معاملے کو لیکر مسلمانوں کا جواب بھی دوسری برادریوں سے مختلف نہیں ہے۔مسلمان اس بات کوسختی سے بتانا چاہتے ہیں،
ہندوستان کی اکثریت یہ محسوس کرتی ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقے کے خلاف کئے گئے ظلم کو حکومت معقول طریقےسے نپٹنے میں ناکام رہی ہے۔انہیں لگتا ہے کہ جو نفرت اور دہشت کا ماحول پیدا کر رہے ہیں ان کے خلاف بھی ریاست کا کوئی واضح رویہ سامنے نہیں آتا۔مسلمانوں کے خلاف تشدد کےمعاملے میں بھی یہی بات ہے۔تقریبا آدھے سے زیادہ سروے کے جواب دہندگان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جس طرح سے بدمعاشوں کے ساتھ بالخصوص گائے رکشھکوں کے ساتھ حکومت کا سلوک رہا ہے اس سے وہ مطمئن نہیں ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کر رہیں ہیں جس میں ہندوستانی مسلمان ان بنیادی مسائل پہ اپنی قومی رائے رکھتے ہیں جسکا ہندوستان بطور ایک قومی شہری برادری کے سامنا کر رہا ہے۔
ہندوتو سیاست کا مرکزی شکار ہونے کے ساتھ مسلمان موجودہ حکومت سے بداطمینانی اور فکر مندی کے اظہار کے ساتھ سامنےآ رہے ہیں۔اس نقطہء نظر سے اگر دیکھیں تو مسلم سکوت سیاسی بے توجہی کا ایک عکس ہے جو کہ پچھلے کئی سالوں سے غیر۔ہندوتو سیاست کے قاعدے کے طور سےہمارے سامنے آیا ہے۔
مسلم رد عمل کے امکانات کو ہندوستانی مسلمان کی آبادیاتی کثرت کے تناظر میںبھی دیکھا جانا چاہیے۔جیسا میرے نقطہ نظر سے مسلم برادری مختلف اور متعدد اسلامی برادریوں پہ مشتمل ہےجو کہ مختلف زبان بولتے ہیں،
ظاہرا اس مختلف النوعیت کے پس منظر میں ہندوتو سے مقابلہ آرائی کی واضح تدبیرغیرعقلی اور گنجلک معلوم ہوتی ہے۔دوسری جانب مسلمانوں کی خاموشی اس کے سیاسی طبقہ کی فکری کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔موجودہ بی جےپی۔ہندتو مسلمانوں کوانہیں برادریوں میں سے ایک برادری کے طور سےـ کوئی بھی مثبت اور تعمیری کاروائی کا پروگرام دینے سے بھی قاصر ہے۔
ہندوتو اسلام اور مسلمان کے تعلق سے اپنی رجعت پسندی کی پوزیشن کی وجہ سے جی رہاہے۔غیر بی جے پی پارٹیاں پرانے تشخص پہ مبنی مسائل کی عدم موجودگی میں مسلمانوں کے تعلق سے کوئی نقطہ نظر دینے میں ناکام ہیں جس میں مسلمان خود بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ماحصل کے طور سے میں ایک ملاحظہپیش کرنا چاہوں گا۔سیاسی طبقہ کویہ جان لینا چاہیے کہ مسلم امیدوں کصرف مزعومہ مسلم مسائل تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔
مسلمان دوسرے معاشرتی۔مذہبی برادریوں کی طرح،
یہ مضمون پروفیسر ہلال احمد،








