جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اپنا کہتا ہے پر نہیں لگتا

کلام: شہاب الدین کمال21 مئی، 20191,976قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اپنا کہتا ہے پر نہیں لگتا
مجھ کو وہ معتبر نہیں لگتا
اس قدر جھوٹ بولے جاتے ہو
رب سے کیا تم کو ڈر نہیں لگتا؟
خم جو غیروں کے در پہ ہوتا ہے
رب کو اچھا وہ سر نہیں لگتا
جو بری صحبتوں کے عادی ہوں
ان کو پھر شر بھی شر نہیں لگتا
اس شجر پر حجر نہیں آتے
جس شجر پر ثمر نہیں لگتا
جو خودی اپنی بیچ ڈالے وہ
مجھ کو اچھا بشر نہیں لگتا
جس میں ہو خود نمائی اے شامخ
مجھ کو وہ باہنر نہیں لگتا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اپنا کہتا ہے پر نہیں لگتا - دی فری لانسر | دی فری لانسر