جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کسے کہی ہم اَپَن بِپتیا

کلام: سحر محمود2 جون، 20191,968قارئین3 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کسے کہی ہم اَپَن بِپتیا
سنے نہ کیہو بھی دل کَے بَتِیا
دنا تو گزرت ہے جیسے تیسے
مگر کٹت ناہی ہم سے رتیا
بتائی کا تونھسے کتنا غم ہے
جو ہوتَے دوسر تو پِٹتَے چھتیا
اُہَے دکھاوت ہے ہمّے انکھیا
کبھو رہا جون ہمر سنگَتِیا
دنیوا میں جی کے کا کرب ہم
سحر نہ لاگت ہے اب ہمَتیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (3)

ع
عطا رحمانی
2 جون، 2019
بہت خوب انوکھی غزل
س
سحر محمود
2 جون، 2019
ماشاء اللہ بہت شکریہ
ر
ریاض مبارک
2 جون، 2019
مقطع تو غالب کے اس شعر کا ترجمان ہے: مضمحل ہوگئے قوی غالب اب عناصر میں اعتدال کہاں

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کسے کہی ہم اَپَن بِپتیا - دی فری لانسر | دی فری لانسر