جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

عید کا دن

کلام: سحر محمود4 جون، 20191,592قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
(1)
چہرے پہ بشاشت سب کے رہے اور عام کرم ہو عید کے دن
غربت سے کسی کی میرے خدا کوئی آنکھ نہ نم ہو عید کے دن
مل جائیں گلے سب چھوٹے بڑے، ہوں دور دلوں سے شکوے گلے
باقی نہ رہے کوئی بھی خلش، ہر ایک بہم ہو   عید کے دن
(2)
سال میں ایک بار آتی ہے
عید پھر بھی خوشی نہ لاتی ہے
ماں غریبی میں اپنے بچوں کو
جانے کہہ کہہ کے کیا مناتی ہے؟
(3)
الہی عید تو بے عید سی معلوم ہوتی ہے
کہ پھیکی پھیکی اپنی زندگی معلوم ہوتی ہے
ہر اک چہرے پہ ہیں تحریر رنج و غم کے افسانے
کسی جانِ بہاراں کی کمی معلوم ہوتی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

عید کا دن - دی فری لانسر | دی فری لانسر