تین ہزار کروڑ سے زیادہ کے ہیرا گھوٹالے میں صرف غریب ہی نہیں کنگال ہوئے ہیں بہت سارے امیروں کا فچکر بھی نکل گیا ہے۔کئی اداروں کے راشن پر ایسا پانی پڑا ہے کہ سایلنٹ موڈ میں بلبلانے تک کی نوبت آگئی ہے۔بھگتوں کو لگتا ہے آپا سارے پیسے کھوسیائے اندر لے گئی ہیں،
گھوٹالے کے بعد چندے کا یہ پہلا سیزن تھا،
رشید سمیع سلفی صاحب نے ایسے ماحول میں مچندین علماء کے حالات پر وہ مضمون لکھ دیا جسے پڑھ کر کوئی مجہول شخص ایس ایس اے انجم پاگل ہو بیٹھا اور فضیلۃ الشیخ معراج ربانی صاحب/ حفظہ اللہ کے رسالے میں ایک مضمون بھی لکھ مارا۔اپنی تقریروں میں قبوریوں کے کان گرمانے والے شیخ ربانی صاحب کے زیر سایہ ایسے مرد بھی راہ پا جاتے ہیں جنھیں عورتوں کی طرح پردے یا دروازے کے پیچھے سے بات کرنے کی عادت ہے،
بندے کی اردو زبان تیز ہے،
باتیں تو ایسی ہیں جیسے چندہ کم ہوا تو گوبری کھیل رہا ہو کہ چندے کی برسات ہوگی۔جن احباب کی نظر سے یہ مضمون گزرے وہ رشید سمیع سلفی صاحب کا مضمون بھی پڑھ لیں،





