جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

قلم کی ابکائی

تحریر: اداریہ20 جون، 20191,707قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

تین ہزار کروڑ سے زیادہ کے ہیرا گھوٹالے میں صرف غریب ہی نہیں کنگال ہوئے ہیں بہت سارے امیروں کا فچکر بھی نکل گیا ہے۔کئی اداروں کے راشن پر ایسا پانی پڑا ہے کہ سایلنٹ موڈ میں بلبلانے تک کی نوبت آگئی ہے۔بھگتوں کو لگتا ہے آپا سارے پیسے کھوسیائے اندر لے گئی ہیں،رہائی پاکر بانٹیں گی۔اللہ خیر کرے!

گھوٹالے کے بعد چندے کا یہ پہلا سیزن تھا،پہلی بار پتہ چلا کہ اس شارٹ کٹ کی جڑ کتنی گہری تھی۔غیر منظم کاروبار پر شکنجہ ایسا کس دیا گیا ہے کہ متوسط طبقے پر پچھلے پانچ سالوں سے کساد بازاری چھائی ہوئی ہے۔پھر وہ دست محسن کی گرمی بھی جاتی رہی،زمانے سے اس کا تیل نکلا ہوا ہے۔کل ملاکر عمومی صورت حال بڑی تکلیف دہ ہے۔اور پھر بجٹ انفرادی ہو یا اجتماعی،گھٹتا کہاں ہے۔ایسے میں اگر انکم گھٹ جائے تو زندگی کتنی مشکلوں سے دوچار ہوگی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔چندے پر بھی بڑا برا اثر پڑا ہے اس سال۔سارے متعلقین فکرمند ہیں۔انتظامیہ،اساتذہ اور محسنین سب۔

رشید سمیع سلفی صاحب نے ایسے ماحول میں مچندین علماء کے حالات پر وہ مضمون لکھ دیا جسے پڑھ کر کوئی مجہول شخص ایس ایس اے انجم پاگل ہو بیٹھا اور فضیلۃ الشیخ معراج ربانی صاحب/ حفظہ اللہ کے رسالے میں ایک مضمون بھی لکھ مارا۔اپنی تقریروں میں قبوریوں کے کان گرمانے والے شیخ ربانی صاحب کے زیر سایہ ایسے مرد بھی راہ پا جاتے ہیں جنھیں عورتوں کی طرح پردے یا دروازے کے پیچھے سے بات کرنے کی عادت ہے،تعجب ہے۔یہ حادثہ شیخ ربانی صاحب کے معیار اور رسالے کے وقار کے لیے اتی ہانیکارک ہے۔

بندے کی اردو زبان تیز ہے،جگہ جگہ ہندی اور کہیں کہیں انگریزی الفاظ کا استعمال بتاتا ہے کہ پڑھا لکھا ہوگا یا پڑھے لکھوں کی صحبت میں رہتا ہوگا۔افسوس ایسی صحبتیں بھی اب تہذیب سے عاری ہوتی جارہی ہیں۔

باتیں تو ایسی ہیں جیسے چندہ کم ہوا تو گوبری کھیل رہا ہو کہ چندے کی برسات ہوگی۔جن احباب کی نظر سے یہ مضمون گزرے وہ رشید سمیع سلفی صاحب کا مضمون بھی پڑھ لیں،پتہ چل جائے گا کہ کس کی بات میں کیا تک ہے اور کون بے تکی باتیں کررہا ہے۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

م
مدثر رحمانی
25 جون، 2019
پیور بھوج پوری کی کا بھی استعمال کیا ہے لاگت ہے کہ کئی دن سے تاڑ میں رہا

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

قلم کی ابکائی - دی فری لانسر | دی فری لانسر