ایک نمازی شخص سے سوال کیا گیا کہ اگر موت کے بعد آپ کو پتہ چلے کہ جنت و جہنم جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور نا ہی ثواب و عقاب کا کوئی تصور ہے تو آپ کیا کریں گے؟
جواب ششدر کرنے والا تھا،
صاحب واقعہ کا بیان ہے کہ سورج ڈوبنے سے تھوڑی دیر پہلے ہم ڈنر کے لئے لندن کے ایک عربی ریسٹورینٹ میں پہونچے،
پروفیسر آپ نے بڑی دیر کردی کہاں چلے گئے تھے؟
میں نے کہا معذرت خواہ ہوں،
اس نے مسکراتے ہوئے کہا: آپ ابھی بھی نماز پڑھتے ہیں،
میں نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا: کیوں پرانے؟ کیا اللہ تعالی صرف عرب ممالک میں ہے؟ کیا لندن میں اللہ کا وجود نہیں ہے؟
اس نے کہا: پروفیسر میرے آپ سے کچھ سوالات ہیں امید کروں گا کہ کشادہ دلی کے ساتھ تحمل مزاجی سے جواب دیجئے گا.
میں نے کہا: بڑی خوشی کی بات ہے لیکن میری بھی ایک شرط آپ کو ماننی ہوگی.
کہا: فرمائیے.
میں نے کہا: جوابات ملنے کے بعد آپ کو ہار یا جیت کو تسلیم کرنی ہوگی،
اس نے کہا: میں آپ سے اتفاق کا وعدہ کرتا ہوں.
میں نے کہا: چلیں گفتگو شروع کرتے ہیں.
اس نے کہا: آپ کب سے نماز پڑھ رہے ہیں؟
میں نے کہا: سات سال کی عمر میں سیکھا تھا اور نو سال کی عمر میں اچھے طریقے سے پڑھنے لگ گیا تب سے آج تک میں نے نماز نہیں چھوڑی اور ان شاء اللہ آئندہ بھی نہیں چھوڑوں گا.
اس نے کہا: اچھا یہ بتائیے کہ اگر موت کے بعد آپ کو پتہ چلے کہ جنت و جہنم اور ثواب و عذاب جیسی کوئی چیز نہیں ہے تو آپ کیا کریں گے؟
میں نے کہا: میں تحمل مزاجی سے آپ کے مفروضے کے متعلق گفتگو مکمل کروں گا،
اس نے کہا: آپ نے سالوں تک پابندی سے نماز پڑھی ہے پھر آپ کو پتہ چلتا ہے نماز پڑھنے اور نہ پڑھنے والے دونوں برابر ہیں اور جہنم نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں تو کیا کریں گے؟
میں نے کہا: مجھے کوئی پشیمانی نہیں ہوگی کیونکہ نماز چند منٹ میں پوری ہوجاتی ہے اور میں اسے ورزش مان لوں گا.
اس نے کہا: اور روزوں کا کیا بنے گا؟ خصوصا لندن میں روزے کم سے کم ١٨ گھنٹے کے ہوتے ہیں.
میں نے کہا: میں روزے کو روحانی ورش مانوں گا کیونکہ اس سے روح میں بہت تازگی رہتی ہے،
اس نے کہا: آپ نے کبھی شراب نوشی کی ہے؟
میں نے کہا: میں نے کبھی اس کو چکھا تک نہیں.
اس نے تعجب سے پوچھا: کبھی نہیں؟
میں نے کہا: کبھی نہیں.
اس نے کہا: آپ نے اپنے آپ کو شراب کی لذت سے محروم رکھا،
میں نے کہا: میں نے اپنے آپ کو شراب کے نقصان سے بچائے رکھا،
اس نے کہا: آپ حج و عمرے کے لئے جاتے ہیں،
میں نے کہا: میں آپ کے مفروضے کے حساب سے ہی آگے بڑھوں گا اور قوت برداشت کے ساتھ ہی آپ کو جواب دوں گا.میں حج و عمرہ پر جانا اپنے لئے ایک خوش گوار ٹرپ سمجھوں گا.
میں نے اس سفر میں خوب لطف اٹھایا ہے اور روح کو تازہ دم بنایا ہے جیسے کہ آپ کام کے دباؤ سے نجات پانے اور روٹین لائف سے ہٹ کر چھٹیاں بتانے باہر نکل جاتے ہو اور روح کو تروتازہ کرلیتے ہو.
وہ چند سکنڈ خاموشی سے میری طرف دیکھتا رہا پھر گویا ہوا: شکریہ آپ نے کشادہ دلی کے ساتھ مجھے برادشت کیا،
میں نے کہا: جب کہ آپ نے اپنی ہار تسلیم کرلی ہے میرے جذبات کے بارے میں کیا خیال ہے؟
اس نے کہا: یقینا آپ خوش ہوں گے.
میں نے کہا: بالکل نہیں،
اس نے تعجب سے کہا:غمگین؟ لیکن کیوں؟.
میں کہا:اب سوال کرنے کی میری باری ہے.
اس نے کہا:فرمائیے.
میں نے کہا:آپ کی طرح میرے پاس بہت سارے سوالات نہیں ہیں،
اس نے کہا:کیا سوال ہے؟
میں نے کہا:میں نے صاف کردیا ہے کہ اگر آپ کا مفروضہ صحیح ہوا تو بھی مجھے کوئی نقصان نہیں ہوگا،
اس کا منہ کھلا رہ گیا اور کافی دیر تک مجھے دیکھتا رہاتب تک ویٹر کھانا لے کر آگیا.
پھر میں نے کہا: مجھے جواب ابھی نہیں چاہئے،
ہم نے کھانا کھایا مجھے جواب نہیں ملا اور نہ ہی میں نے اسی وقت جواب مانگ کر اسے پریشان کرنا مناسب سمجھا،
ایک مہینے بعد اس نے فون کرکے اسی ریسٹورینٹ میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی.
ملاقات ہوئی،
میں نے اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر رکھا اور پوچھا کیا ہوا آپ کو؟
اس نے کہا:میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں،
میں نے کہا:شاید الفاظ کی گونج نے آپ کی بصیرت کو بیدار کردیا ہے جبکہ بصارت آپ کو دھوکے میں رکھے ہوئی تھی.
اس نے کہا:یہی بات ہے،
عربی سے ترجمہ





