الٹا پاجامہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
نیا نیا جامہ زیب تن کیے ہوئے شیخ صاحب نکلے تو تھے بڑے کر و فر سے،
" پاجامہ الٹا ہے..."
بے یقینی سے انہوں نے پہلے اسے گھورا پھر سر جھکا کر اپنا پاجامہ دیکھا۔الٹا پاجامہ دیکھ کر ان کے جی میں آیا کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں اپنے الٹا پاجامہ سمیت سما جائیں۔لیکن شیخ حقیقی معنوں میں شیخ تھے۔لمحہ بھر میں خود کو سنبھالا اور بولے:
" ھھھھھھھھھ۔تم بھی مورکھ نکلے،
شیخ صاحب کا لہجہ اتنا پراعتماد تھا کہ یقین نہ ہونے کے باوجود وہ خاموش ہوگیا اور اپنی راہ پکڑی۔۔۔
" کیا ہوا جی! پگلا گئے ہو کا؟ الٹا پاجامہ پہن کر گھوم رہے ہو۔۔۔!"
کچھ آگے چل کر ایک قدرے بے تکلف دوست نے انہیں ٹوکا۔شیخ صاحب اعتماد کے ساتھ مسکرائے اور بولے:
" مولانا آزاد کا پاجامہ دیکھ کر بھی یہی کہتے؟ "
" کیا مطلب؟" دوست کچھ نہیں سمجھ پایا۔
" مولانا آزاد بھی اسی طرح پاجامہ پہنتے تھے،
پنساری کی دوکان پر کھڑے وہ کچھ خرید رہے تھے کہ پیچھے سے کسی نے ان کے کندھے پر زور سے تھپکا مارا۔وہ پیچھے مڑے،
" کیا بے؟! کیا بات ہے؟! آج کل نئے نئے کپڑے پہن کر نکل رہا ہے!"
" نہیں یار،
" لیکن یہ بتا،
" تمہارے اندر ذوقِ نفیس نام کی کوئی چیز ہے بھی کہ نہیں! جسے تم الٹا پاجامہ کہہ رہے ہو،
اس کے بعد شیخ بلا کسی تعرض کے واپس گھر پہنچ گئے۔گھر پہنچ کر بیوی کی نظر جیسے ہی ان کے پاجامہ پر پڑی،
" اللہ،
" ہاں،
بیوی نے پلٹ کر جواب دیا:
" لیکن آپ کا پاجامہ الٹا ہی رہا نا۔۔۔!"





