دریا پہ زندگی کے کشتی نہ ناخدا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دریا پہ زندگی کے کشتی نہ ناخدا
ڈھلتی رہے یہ عمر بھی کرکے خدا خدا
دل سے اگر کہوں تو دل کا یہ حال ہے
دل سے ہوں بےخبر تو اپنے ہی با خدا
قیمت بھی لگ گئی ہے اوپر سے مول بھاؤ
انسان کے بازار میں چھوٹا بڑا خدا
پتھر تراش ہم نے قسمت جگائی يوں
گڑھتے رہے خدا اور بِکتا رہا خدا
لوگوں نے بندگی کے منصب گھٹا لیے
کل تک زمیں پہ تھا جو پتھر بنا خدا
آ ساتھ بیٹھ کر ہم کرتے ہیں غوروفکر
ہاں ایک ہی تو ہے وہ تیرا میرا خدا
اردو میں دیکھیے تو نقطے کی اہمیت
فوزان ایک بھول سے ہوگا جدا خدا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
f
fauzan ahmad
19 جولائی، 2019bahut shukriya
S
Sirajul Haque
18 جولائی، 2019Bahut khoob janab





