جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

یوں مرے دل پہ برستے ہیں برابر پتھر

کلام: عبدالکریم شاد22 جولائی، 20191,455قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یوں مرے دل پہ برستے ہیں برابر پتھر
جیسے پڑتے ہیں ثمر دار شجر پر پتھر
آئینہ لے کے جو میدان میں تنہا آیا
"ایسے انساں پہ چلا پھینکنے لشکر پتھر"
کوئیجھوٹی ہی تسلی تو مجھے دے ظالم!
کیوں کھڑا ہے تو مرے سامنے بن کر پتھر
موم کی طرح نظر آتے ہیں جو لوگ میاں!
چھو کے دیکھو تو نکلتے ہیں وہ اکثر پتھر
اے خدا! بھیج دے دنیا میں کوئی ابراہیم
بیچتا پھرتا ہے بازار میں آزر پتھر
یہ خوشی ہے کہ مری پیاس ہے بجھنے والی
خوف یہ ہے کہیں برسائے نہ امبر پتھر
اب یہ رستے کا تقاضا ہے کہ اس دنیا میں
آئینے والے چلیں ہاتھ میں لے کر پتھر
اب تو عینک بھی لگانے کی نہیں آزادی
پھینکنے لگتے ہیں ورنہ کھلے منظر پتھر
شاد! آئینہ کوئی گم ہے یہاں پتھر میں
اور پوشیدہ ہے آئینے کے اندر پتھر
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

یوں مرے دل پہ برستے ہیں برابر پتھر - دی فری لانسر | دی فری لانسر