مختلف اقوام و مذاہب کی ایک جگہ قیام اور بود و باش سے ایک نئی تہذیب اور ایک نئی زبان کی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں اور جب یہ اجتماع طوالت اختیار کر لیتا ہے تو ان کا ملا جلا معاشرہ ایک دوسرے کے افکار و نظریات،
ان شاء اللہ زیر نظر مضمون میں ادبی بداعتقادگی کی ایک جھلک اور اس پر ایک مختصر تبصرہ بھی کیا جائے گا،
کلمات
اگر:
مصائب و مشکلات کے وقت انسان خلجان کا شکار ہو جاتا ہے،
(و مَا أَصَابَ مِن مُّصِیْبَۃٍ فِیْ الْأَرْضِ وَلَا فِیْ أَنفُسِکُمْ إِلَّا فِیْ کِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَہَا إِنَّ ذَلِکَ عَلَی اللَّہِ یَسِیْر. لِکَیْْلَا تَأْسَوْا عَلَی مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمْ وَاللَّہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ)(۱)
ترجمہ: تمھیں جو بھی مصیبت زمین اور تمھاری ذات پر آتی ہے اس کا تذکرہ تخلیق سے قبل ہی کتاب میں ہو چکا ہے۔یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے تاکہ جو چیز تم سے فوت ہو جائے اس پر نادم نہ ہو اور جو نعمت اللہ کی طرف سے میسر ہو اس سے (حددرجہ) خوش نہ ہو جاؤ اور اللہ جل شانہ تکبر و غرور کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
اس لیے تکلیف کے عالم میں نبی ﷺ کے فرامین کے مطابق ایک مومن کو تقدیر الٰہی پر توکل کرتے ہوئے کہنا چاہیے کہ ”اللہ رب العالمین نے جو کیا وہ میرے لیے بہتر تھا“ اور اسے یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ نے اسے چھوٹی پریشانی کے عوض بڑی مصیبت سے نجات دی ہے کیونکہ ہماری تخلیق سے ہزارہا سال قبل ہماری قسمت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اپنی ناکامی کا الزام قسمت کو دینا یا اسے ”شومئی قسمت“ سے تعبیر کرنا خلاف شرع ہے،
”إن أصابک شیء فلا تقل: لو أنی فعلت کذا لکان کذا وکذا ولکن قل: قدر اللّٰہ وما شاء فعل فإن لو تفتح عمل الشیطان“(۲)
ترجمہ: جب تمھیں کوئی پریشانی لاحق ہو تو یہ نہ کہا کرو”اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوتا“ بلکہ یہ کہا کرو جو اللہ نے مقدر کیا اور چاہا وہی ہوا کیونکہ لفظ ”اگر“ شیطانی عمل کو کھول دیتا ہے۔
شہنشاہ:
اہل لغت کے نزدیک شہنشاہ فارسی کے شاہان شاہ کا مخفف ہے۔(۳) جس کا معنی بادشاہوں کے بادشاہ کے آتے ہیں۔(٤) یہ کلمہ اپنے اندر حد درجہ کبریائی اور بڑکپن سموئے ہوئے ہے۔کبر و غرور کے بارے میں نبیﷺکا فرمان ہے:
”لا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر“(۵)
ترجمہ: جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی غرور ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔
کیونکہ یہ اللہ کا حق ہے اور اسے پسند نہیں کہ کوئی بھی ذی روح اس جیسا نام یا صفت کا دعویٰ کرے اگرچہ وہ شخص دنیا کی بڑی سے بڑی سلطنت کا مالک ہو۔نبیﷺ کی حدیث ہے:
”أغیظ رجل علی اللہ یوم القیامۃ أخبثہ وأغیظہ علیہ: رجل کان یسمي ملک الأملاک،
ترجمہ: قیامت کے دن اللہ کی ناراضگی کا سب سے زیادہ سزاوار،
یعنی ملک کے فرماں روا کے لیے ایسے القاب سے گریز کیا جائے اور ان الفاظ کے بدلے اولوالامر،
خدا:
اردو طبقہ کی ایک بڑی تعداد اللہ وحدہ لاشریک کا ترجمہ یا تعارف کے لیے لفظ ”خدا“ بڑے زور و شور سے استعمال کرتی ہے۔یہ کلمہ فکری لغزش،
(الف)قواعد لغت سے بے اعتنائی:
ترجمہ نگاری کا اصول ہے کہ ایک زبان کے پیغام کو دوسری زبان میں منتقل کرتے وقت مخصوص ذات،
خدا: ”خود“ اور ”آ“ کا مرکب ہے۔(٧) جس کا معنی خود ہی آنے والا،
اللہ کے بدلے خدا کے لفظ کو قبول کرنے سے لازم آئے گا کہ دنیا میں الٰہ اور معبود کے لیے رائج تمام الفاظ بلا امتیاز مسلک و مشرب استعمال کیے جائیں جیسے وشنو،
(ب) غیروں کی مشابہت:
برصغیر کے مسلمان اپنے آپ کو جس طرح غیروں کی تہذیب و تمدن سے محفوظ نہیں رکھ سکے اسی طرح وہ زرتشت مذہب کے خدائے خیر”یزداں“ اور خدائے شر”اہرمن“ کی مشابہت لفظی کے شکار ہوگئے اور اللہ عزوجل کے بہترین ناموں کو چھوڑ کر لفظ ”خدا“ کو اپنے روزمرہ کا معمول بنا لیا جب کہ نبی ﷺ کا مشابہت بالغیر کے تعلق سے ارشاد ہے:
”من تشبۃ بقوم فھو منھم“(٩)
ترجمہ: جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ ان ہی میں سے ہے۔
(ج)نصوص شرعیہ کی مخالفت:
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دعا کے آداب اور اپنی ذات کے مخالف اسماء کی وضاحت کرکے حکم دیا کہ جو شخص ان امور سے بے اعتنائی کرے تو تم بھی اس سے لاتعلقی اختیار کرلو،
(وَلِلّہِ الأَسْمَاء الْحُسْنَی فَادْعُوہُ بِہَا وَذَرُواْ الَّذِیْنَ یُلْحِدُونَ فِیْ أَسْمَآءِہِ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ)(١٠)
ترجمہ: اور اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں پس ان کے ذریعے اللہ سے دعا کرو اور ان لوگوں کو چھوڑدو جو اللہ کے نام میں الحاد کرتے ہیں،
قرآن وحدیث کے اندر اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ کے ثابت شدہ اسماء حسنیٰ اپنی نگارشات و بیانات میں استعمال کریں کیوں کہ ان ناموں کے علاوہ کسی لفظ میں اللہ کے اسماء حسنیٰ کی ہمسری کی قوت نہیں جس کی وضاحت خود قرآن کرتا ہے:
(ہَلْ تَعْلَمُ لَہُ سَمِیّا)(١١)
ترجمہ: کیا تم اس (اللہ) کا کوئی ہم نام جانتے ہو۔
زمانہ بہت خراب ہے:
اللہ تعالیٰ نے دنیا کو آزمائش گاہ بنایا ہے وہ انسانوں کو اچھے اور برے حالات سے دوچار کرکے آزماتا ہے،
(وَنَبْلُوکُم بِالشَّرِّ وَالْخَیْْرِ فِتْنَۃً وَإِلَیْْنَا تُرْجَعُونَ)(١٢)
ترجمہ: اور ہم تمھیں برے اور اچھے حالات سے آزماتے ہیں اور تم ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہو۔
اس لیے آسائش سے پر اور پریشانی سے دوچار دونوں صورتوں میں اللہ کی حمدوثنا بیان کرنی چاہیے نہ کہ حالات کا رونا رویا جائے اور زمانے کو برا بھلا کہا جائے جیسا کہ مشرکین کا زمانہ جاہلیت میں شیوہ تھا جن کی حکایت بیان کرتے ہوئے اللہ رب العالمین فرماتا ہے:
(وَقَالُوا مَا ہِیَ إِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَا إِلَّا الدَّہْرُ وَمَا لَہُم بِذَلِکَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ ہُمْ إِلَّا یَظُنُّونَ)(١٣)
ترجمہ: اور وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس دنیاوی زندگی ہے،
عموماً دیکھا جاتا ہے کہ لوگ زمانہ کو برا بھلا کہتے ہیں جب کہ ان کی مذمت بالواسطہ اللہ رب العالمین کو پہنچتی ہے۔یہ لوگ انجانے میں اللہ کو گالیاں دیتے ہیں کیوں کہ وہی مدبر الامور ہے اسی کے ذمہ دنیا وما فیہا کا نظم و نسق ہے گویا زمانہ پہ کلام کرنا اللہ پر کلام کرنے کے مترداف ہے جیسا کہ حدیث قدسی ہے:
”یؤذیني ابن آدم بسب الدھر وأنا الدھر أقلب اللیل والنھار.“(١٤)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم زمانہ کو برا بھلا کہہ کر مجھے تکلیف دیتا ہے،
زمانہ کو برا بھلا کہنے کے بجائے اپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے اور کامل توکل علی اللہ کے ساتھ دنیا و آخرت کی سرفرازی کے لیے کوشاں ہونا چاہیے۔
شبھ دیپاولی (ہیپی دیوالی) یا میری کرسمس وغیرہ:
ان دنوں مسلم معاشرہ میں ہم وطن غیر مسلمین کے ساتھ رواداری اور حسن اخلاق کے نام پر ان کے تہواروں پر مبارک بادی کی مداہنت کا زور کافی تیز ہے۔کچھ نام نہاد روشن خیال دانشوران اپنی دلی خواہشات کی تکمیل کے لیے اسلامی رواداری کا حوالہ دے کر فرماتے ہیں کہ یہ غیر مسلموں کے درمیان اسلامی دعوت و تبلیغ کا حسین موقع ہے،
مسلمانوں کو ان امور کے سلسلے میں غور کرنا چاہیے،
محاورات
بلائیں لینا:
عورتیں جب عرصے کے بعد کسی ایسے عزیز سے ملتی ہیں یا کسی بچے سے خوش ہوتی ہیں تو اس کے سر پر ہاتھ پھیرکر اپنی کنپٹیوں پر دونوں ہاتھ کی انگلیاں رکھ کر چٹخانے یا کسی شخص کی مصیبت اپنے اوپر لینے کو بلائیں لینا کہتے ہیں۔(١٥)
اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں میں بہت سی بداعتقادگی ہندوانہ تہذیب سے درآئی ہیں انہی خرافات میں سے ایک عورتوں کا انگلیوں کے مخصوص انداز سے حرکت دینے سے سامنے والے شخص کی پریشانیوں کو اپنے نفس کی طرف منتقل کرنے یا اسے نظر بد سے بچانے کا فاسد اعتقاد ہے جو عقیدہ اسلامیہ سے متصادم ہے کیوں کہ اللہ جل شانہ نے اپنے علاوہ کسی نفس کے اندر اتنی قوت ودیعت نہیں کی کہ وہ کسی کی بلاؤں کو ٹال سکے،
(وَإِن یَمْسَسْکَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یُرِدْکَ بِخَیْْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِہِ)(١٦)
ترجمہ: اور اگر اللہ تمھیں کوئی تکلیف میں مبتلا کر دے تو اس (اللہ) کے علاوہ کوئی دور نہیں کر سکتا اور اگر وہ تمھارے لیے کوئی بھلائی چاہے تو اللہ کے فضل سے کوئی نہیں روک سکتا۔
جس طرح کسی انسان کے اندر کسی کی پریشانی دور کرنے کی طاقت نہیں ہے بالکل اسی طرح اللہ کے فضل و انعام کو چھیننے کی قوت نہیں ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا:
”واعلم أن الأمۃ لو اجتمعوا علی أن ینفعوک بشیء لم ینفعوک إلا بشیء قد کتبہ اللّٰہ لک،
ترجمہ: اور جان لو کہ اگر پوری امت تمھیں کسی چیز کا فائدہ پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو تمھیں فائدہ نہیں پہنچا سکتی سوائے اس چیز کے جو تمھارے لیے مقدر ہے اور اگر پوری امت تمھیں کسی چیز کا نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تمھیں نقصان نہیں پہنچا سکتی الا کہ جو تمھارے لیے اللہ نے لکھ دیا ہے۔
جب یہ بات مسلّم ہے کہ قلق و اضطراب دور کرنا انسانی بساط میں نہیں ہے تو ہمیں باطل رسوم و رواج سے ناطقہ توڑ کر اپنا رشتہ دعائے ماثورہ سے جوڑنا چاہیے اور اپنی اور اپنے اہل و عیال کے حفظ و امان کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
محرم کی پیدائش:
زمانہ جاہلیت میں کفار و مشرکین جن مہینوں میں نحوست کا عقیدہ رکھتے تھے ان میں سے ایک ماہ صفر بھی تھا،
(إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُورِ عِندَ اللّہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْراً فِیْ کِتَابِ اللّہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُم)(١٩)
ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں مہینوں کی تعداد بارہ ہیں،
”السنۃ إثنا عشر شھرا منھا أربعۃ حرم،
ترجمہ: سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں،
نبیﷺ نے بلا تقیید مہ و سال ہر قسم کی بدشگونی کی نفی کی ہے اور اسے اشراک باللہ قرار دیا ہے۔فرمان نبوی ہے:
”لا عدوی ولا طیرۃ“(٢١)
ترجمہ: چھوت چھات اور بدشگونی کی کوئی اصل نہیں ہے۔
دوسری جگہ فرمایا:
”الطیرۃ شرک،
ترجمہ: بدشگونی شرک ہے،
عوام میں مہینوں کی طرح دنوں،
مذکورہ گفتگو کا نچوڑ ہے کہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے نحوست کی غلاظت سے پاک رہنے کی کوشش کریں اور محرم کی پیدائش کے طور پر ”غم کی تصویر“ وغیرہ محاورات اپنی روزمرہ کے بول چال میں استعمال کریں۔
فاتحہ نہ درود مر گیا مردود:
شریر یا بدمزاج کی موت یا نااہل کا کسی چیز کو ضائع کر دینے پر بولتے ہیں۔یہ محاورہ فاتحہ نہ درود کھاگئے مردود یا کھانے کو موجود کے لاحقے کے ساتھ بھی مستعمل ہے۔(٢٣) اس محاورہ کی معنوی شاخیں مروجہ فاتحہ خوانی سے جڑی ہوئی ہیں جس کا کوئی ثبوت قرآن و حدیث سے دور دور تک نہیں ملتا،
”من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد“(٢٤)
ترجمہ: جس نے ہمارے اس دین اسلام میں نئی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں ہے وہ(عمل) مردود ہے۔
اگر مذکورہ محاورہ بدعی،
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
اور دوسرے محاورات جیسے ”چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ“،
افسوس کہ عوام الناس اس تعلق سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فرامین کو بھول کر ادیبوں اور شاعروں کی فکری لغزشوں کو آج تک مہمیز دے رہے ہیں اور دین کے احکام و شرائع کا دھڑلے سے مذاق اڑا رہے ہیں۔ایسے شخص کے بارے میں اللہ فرماتا ہے:
(وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوا أَنفُسَہُمْ فِیْ جَہَنَّمَ خَالِدُونَ. تَلْفَحُ وُجُوہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِیْہَا کَالِحُونَ. أَلَمْ تَکُنْ آیَاتِیْ تُتْلَی عَلَیْْکُمْ فَکُنتُم بِہَا تُکَذِّبُونَ. قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْماً ضَالِّیْنَ. رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْہَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ. قَالَ اخْسَؤُوا فِیْہَا وَلَا تُکَلِّمُونِ.إِنَّہُ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَیْْرُ الرَّاحِمِیْنَ. فَاتَّخَذْتُمُوہُمْ سِخْرِیّاً حَتَّی أَنسَوْکُمْ ذِکْرِیْ وَکُنتُم مِّنْہُمْ تَضْحَکُونَ. إِنِّیْ جَزَیْْتُہُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّہُمْ ہُمُ الْفَاءِزُونَ)(٢٥)
ترجمہ: جس کا ترازو ہلکا ہوگا تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنا گھاٹا کرلیا اور ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہیں گے،
ہمیں چاہیے کہ استہزاء باللہ وآیاتہ کی شدت کو سمجھیں اور گفتگو کے درمیان احتیاط برتیں۔
چڑھتے سورج کی پوجا کرنا:
جس کو اقتدار حاصل ہو اس کی ہاں میں ہاں ملانا اور حق ناحق دیکھے بغیر طاقتور کا ساتھ دینے کو ادبی ٹولہ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے سے تعبیر کرتا ہے۔(٢٦)
اس کہاوت کو بولتے وقت اگرچہ اس کا ظاہری معنی جس کے لفظ لفظ سے شرک رِس رہا ہے اور اس کی قباحت کا احساس تک نہ ہو،
”إن العبد لیتکلم بالکلمۃ من رضوان اللّٰہ لا یلقی لھا بالاً یرفعہ اللّٰہ بھا درجات وإن البعد لیتکلم بالکلمۃ من سخط اللّٰہ لا یلقی لھا بالا یھوی بھا فی جھنم“(٢٧)
ترجمہ: بے شک ایک شخص اللہ کی خوشنودی کے کلمات ادا کرتا ہے جسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا اللہ اس کلمہ کے ذریعہ اس کے درجات بلند کرتا ہے اور وہ شخص جو اللہ کی ناراضگی کے کلمات زبان سے نکالتا ہے جسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اسی کلمے کی وجہ سے جہنم واصل ہوگا۔
اردو میں ایسے بے شمار الفاظ اور جملے پائے جاتے ہیں جن کا احصا عقیدہ کی خدمت میں ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا۔یہاں پر چند الفاظ اور جملوں کا ضمناً تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
اسماء:
غلام نبی،
القاب:
ظل الٰہی،
ہندوانہ عقائد سے مستعار:
”بھارت ماتا کی جے“ یا کسی بھی لفظ کے ساتھ لفظ ”ماتا“ یا ”بھکتی“ کا اتصال،
منادی:
باپ رے باپ،
تقدیر پر بے اعتمادی:
مقدر کا چکر،
متفرقات:
اللہ کو حاضر و ناظر مان کر بولنا،
حاصل کلام یہ ہے کہ زبان و بیان میں ایسے جملوں کا انتخاب کیا جائے جو ظاہری و معنوی دونوں سطح پر صاف و شفاف ہوں اور اسلامی عقیدے سے ہم آہنگ ہوں۔
(١) الحديد: ٢٢-٢٣
(٢) صحیح مسلم،
(٣) لغات کشوری از تصدق حسین،
(٤) فرہنگ آصفیہ از سید احمد دہلوی،
(٥) صحیح مسلم،
(٦) صحیح مسلم،
(٧)غیاث اللغات از مولانا غیاث الدین،
(٨) فرہنگ آصفیہ از سید احمد دہلوی،
(٩) سنن أبي داود،
(١٠) الأعراف:١٨٠
(١١)مریم: ٦٥
(١٢)الأنبیاء:٣٥
(١٣) الجاثیہ:٢٤
(١٤) صحیح بخاری،
(١٥) نور اللغات از مولانا نور الحسن نیرکارکوری،
(١٦) یونس: ١٠٧
(١٧) سنن الترمذي،
(١٨) نور اللغات ٥٠١/٤،
(١٩) التوبہ: ٣٦
(٢٠) صحیح بخاری،
(٢١)صحیح بخاری،
(٢٢)سنن أبی داود،
(٢٣)نور اللغات ٥٦٢/٣،
(٢٣) صحیح بخاری،
(٢٤) المومنون: ١١١-١١٣
(٢٥)علمی اردو لغت از وصی اللہ کھوکھر،
(٢٧) صحیح البخاري،





