خواب اور تعبیر کے درمیان کا رشتہ ہر اس آنکھ کا موضوع ہے جو ایک مثقف ماحول اور متدين تہذیب میں دیکھنا،
اسلام کے تصور دنیا میں بھی خواب سے تعبیر تک کے سفر کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔اسلام اگر ایک فطری دنیاوی نظام ہے جس کا تعلق بعید از دنیاوی مقاصد کے لیے بھی ہے تو خواب و تعبیر کی ریل گاڑی کو وجہ رفتار عطا کرنا اس کی اولین ذمہ داری بھی ہے۔خواب و تعبیر کی جوان ہوتی ہوئی تمام تر کوششوں کو ایک راستہ دکھانا فطری چیزوں کی ماہیت ہوتی ہے لہذا اسلامی سوچ خواب سے تعبیر اور تعبیر سے آنکھوں کے رشتے کو واضح کرنے کے لیے بہترین نظام ہے۔
کسی کے خواب کی تعبیر بتانا ایک عالم کے لیے بہت آسان ہے مگر کسی کی بتائی ہوئی تعبیرات کے مطابق خواب دیکھنا اسی عالم کے لیے بہت مشکل۔ہم اپنی دینی سوچ کی تاریخ پہ ایک نظر ڈالیں تو اطمینان کا سانس ضرور لیں گے مگر جوں جوں ہم اسے غور سے دیکھنا شروع کرتے ہیں تو رنج و یاس کے علاوہ ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آتا،
ہمارے اس دور میں خواب اور تعبیر کا سفر بھی جاری ہے مگر وہ ہم سے موسوم نہیں۔آپ غالبا یہ کہیں گے اس سفر کے دوران ایسی راتیں زیادہ دیر تک رکتی ہیں جس پر اماوس کے سائے اپنی فال آپ نکالتے ہیں،
اس تعلق سے بر صغیر کی دینی تاریخ پہ نظر ڈالیں تو معاملہ معبرین کے سر زیادہ جاتا ہے۔وہ اس لیے کہ اس کی تعبیرات ایسے اشاریوں میں کی گئی ہیں جس سے ہمارا حالیہ دینی منظر بھی نہ سمجھ آنے والی ایک عجیب تصویر بن چکا ہے۔برصغیر کی تاریخ کے شہروں کی فضاؤں میں ابھرتا ہوا جو پرچم نظر آتا ہے وہ خاصہ تخریبی اور نظام مخالف پیش کیا گیا ہے۔ایسے میں کچھ عقل و خرد کے استعمال سے واقف کار اور موید اسلام کی ایک دنیوی اور ”کم کراماتی“،
نفس مضمون کو تہذیب و ثقافت کی ترویج کے رجحان سے سمجھیں تو سمجھ آئے گا کہ اصلاح اور تجدید کے مسائل مختلف فارمولوں کی بنیاد پہ اخذ نہیں کیے جاتے،
برصغیر کی معاشرت میں دینی تاریخ کو جن حوالوں سے سمجھا جاتا ہے وہ (الف) صوفیاء اور ان کی گراں قدر عوامی خدمات کے ذریعہ یا (ب) خفیف تصوف کے حاملین کی دینی خدمات کے ذریعے جس کا ایک بڑا تاریخی اور حکومتی پس منظر بھی رہا ہے یا (ج) عہد جدید کے حوالے سے دینی تعبیر پہ اشرافیہ کی بالادستی کے ذریعہ۔اس کے علاوہ کی تفہیم مین سٹریم ہونے کے مواقع سے محروم ہے۔
سوشیالوجیکلی دیکھیں تو یہاں مسالک کی دین فہمی یا دینی عقل کے استعمال میں مصلحت کا خیال رکھنا عقل مخالف رجحان سے زیادہ معاشرت کے کنٹرول کے لیے رہا۔اس میں مثال کے طور سے عورت شر کے گلیاروں کا دہانہ کھولتی ہوئی نظر آتی ہے اور مرد عورت کی نفس پروری کا شکار ہوکر پینتالیس سال کی عمر میں بھی پارسا کا پارسا بنا رہتا ہے۔دراصل بات انصاف کی نہیں تہذیبی تعینات کی بھی ہے۔تہذیب میں عورت و مرد کی جگہ متعین ہے جس میں دین کی تعبیر کا نمایاں کردار ہے۔ایسے میں کوئی کتاب و سنت کا پابند سچے دل سے تعبیر کی غلط بیانی کو اجاگر کر قرآن مجید اور سنت رسول اللہ کو معیار بنا کر انصاف کی بات کرے تو ایسی بات کرنے والے کو دینی فقہیات کی چہار قطبی محل میں کیوں جگہ دی جائے گی؟ اسے تہذیب کا قاتل کیوں نہ کہا جائے گا؟ قرآن و سنت کی یہ تخلیصی تعبیرات یقینا فقہی سوچ کی برہمنیت سے آزادی کی راہ تلاش کرنے کے لیے اور فرائض خداوندی کو تصور حق سے جوڑنے کے لیے تھی۔
برصغیر کی دینی تاریخ میں رقعہ رقعہ اور حرف حرف پہ نظر رکھنے والی فکر کتاب و سنت کے ساتھ ساتھ تعبیری کاروائی میں بھی اپنی انرجی صرف کرتی رہی۔اس کی سب سے بڑی تعبیر فرنگی استعماریت مخالف مزاحمتی کرنٹ کو ایک وجہ وجود اور وجہ تسلسل دینا تھا وہیں اسی استعماریت کی فکری تربیت اور تنویری افکار کو سمجھنا اور ان سے ایک سے زیادہ طور کا حوار کا انتظام کرنا اور ”سرکاری مذہبی کلنسنگ“ سے خود کو بچانا بھی ٹھہرا۔حواری یا ڈائیلاگ کا اہتمام کرنے کی جد و جہد تجدیدی بصارت اور اصلاحی دوربینی کا پیش خیمہ تھی جبکہ مزاحمت مٹی کا حق ادا کرنے اور حکم الہی کی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے تھی۔
برصغیر میں اشرافیہ کے قضیہ کو سمجھنے کے لیے یک سطری صوابدید کافی نہیں مگر اشرافیت کا منفی اثر جذب کرنے والے سب سے زیادہ وہ علماء رہے جو ”محض“ علماء کے علم کی بالادستی پہ بضد تھے۔یہ ضد چند لوگوں تک محدود نہیں تھی بلکہ برابر بنا تفریق مسلک و ملت پھیلتی رہی گو کہ وہ آج کے کتاب و سنت کے حاملین اور سلف کے معنی کو بھرپور انداز میں سمجھنے والے علماء کے درمیان ہی کیوں نہ ہوں۔
کتاب و سنت کے رکھوالے اجتہاد کی غلطی کو اجتہاد کی غلطی ہی سمجھتے تھے۔اگر ایسی کوئی غلطی واقع ہوئی جس نے افکار کا ایک ملغوبہ اندرون اسلام میں کھڑا کر دیا اور افراد کے ایک سیلاب کو منظم کر دیا تو اسے خواب کی تعبیرات کے عمل میں ایک تعبیر مان لینے میں کیا حرج ہے؟ تعبیر کا عمل جاری تو ہے۔ایسی تعبیر کو مزید سوچنے کے جرم کی پاداش میں صبح و شام کسی کو سولی پہ چڑھانا عجیب ہے۔فکر کی مختلف الجہات پوزیشن ہوتی ہیں جو کہ تعبیرات کی عمل میں ملوث ہونے کے نتیجے میں نکل کر آتی ہیں۔فکر کی پوزیشن کو کسی بیرون ریاست موافق کردینا بھی اچھا ہو سکتا ہے اس شرط پہ کہ ریاست اور تعبیر کے عمل میں کوئی تعلق ہو مگر ریاست موافق ذاتی قسم کے حرکات و سکنات کو فکر مان لینا ایسے ہی ہے جیسے پٹزا پہ لگی ہوئی چیز کو گھی سمجھ لیا جائے۔
کتاب و سنت کے متبعین جو نص قرآنی کی بالادستی اور نص فہمی کی معنویت کے قائل ہیں وہ دو خیالی باتوں کو حقیقت بننے نہیں دیں گے؛
ہم ایسی دہلیز پہ کھڑے ہیں جہاں سے خواب اور تعبیر کے درمیان رشتہ کی تجدید کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے۔دینی سوچ کو ایک وجہ دینے کے بجائے جامعاتی علماء کا مکڈونالڈائزیشن اپنے عروج پہ ہے۔شوگر کینڈی کھاتے کھاتے اب تو ہمارے الفاظ بھی بے اثر ہیں اور محض ایک شور سے زیادہ کچھ نہیں؛





