غم تو بہت سے ہیں مگر آثارِ غم نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
غم تو بہت سے ہیں مگر آثارِ غم نہیں
بارش کا دل میں شور ہے اور آنکھ نم نہیں
میں تیرے التفات کے لائق تو ہو گیا
"تیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں"
حاجت کی حد میں رہ کے ہمارے قریب آ
وہ اور ہوں گے تیرے گرفتار، ہم نہیں
معیارِ زندگی کا بھرم رکھ رہے ہیں بس
ورنہ ہمیں تمیزِ نشاط و الم نہیں
چلنے کا تم کو طور طریقہ نہ آئے گا
کچھ راہ زندگی میں اگر پیچ و خم نہیں
رخصت کچھ اس طرح ہوئے اس بار ہم اے شاد!
دونوں کے لب پہ کوئی قرار و قسم نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





