اُس کی یادوں سے بسا اک قافلہ رہ جاۓ گا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اُس کی یادوں سے بسا اک قافلہ رہ جاۓ گا
راستے کٹ جائیں گے اور فاصلہ رہ جاۓ گا
اک کسک دل میں ہے باقی ہائے جو یہ بھی نہ ہو
تیرے میرے درمیاں پھر کیا بھلا رہ جائے گا
اتفاقا راہ میں پوچھو نہ حال دل میرا
بے وجہ کی بات میں باقی گلہ رہ جاۓ گا
در کھلا رکھا ہے کب سے جنبش و آہٹ کہاں
لگ رہا ہے رتجگوں کا سلسلہ رہ جاۓ گا
غم غلط ہو جائیں گے اپنوں کے ہوں یا غیر کے
بس غم جاناں کا آخر مسئلہ رہ جاۓ گا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
ا
اعجاز
30 اگست، 2019اتفاقا راہ میں پوچھو نہ حال دل میرا
بے وجہ کی بات میں باقی گلہ رہ جاۓ گا
بہت خوب
ماشاءاللہ





