آتشِ عشق کی رکھ لاج ہویدا ہو جا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آتشِ عشق کی رکھ لاج ہویدا ہو جا
پردۂ برف پگھل آگ سراپا ہو جا
وسعتِ صحرا تو تنگی ہی کا ہے اک قالب
چھوڑ ہیئت کو کہوں جتنا تو اتنا ہو جا
قید کا رشتہ سلامت ہے جو تو ہے سالم
توڑ دے جوڑ ہیں جتنے بھی شکستہ ہو جا
دل کی دنیا میں ہے ترتیب و تکلف ممنوع
تو کبھی پست کبھی پست سے بالا ہو جا
چھوڑ کر مجھ کو کسی کا بھی نہیں بن پایا
میں نہیں کہتا کہ بن میرا تو اپنا ہو جا
پیار سے ساتھ چلے جو وہی ہمراہ رہے
گر رفاقت میں ہو ہمدردی اکیلا ہو جا
ہجر اچھا ہے وہی جس میں محبت چھلکے
وصل تک تو بھی کسی اور کا اپنا ہو جا
تیرگی لاکھ ہو بجھ جائیں سبھی قندیلیں
دل کے مشعل کو جلا خود ہی اجالا ہو جا
وہ تو سورج ہے رہے گا یہاں دن ہے جب تک
تُو مگر شمسؔ ہے رک شب کا سہارا ہو جا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





