جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اس سے مل کر میں یوں ملا خود سے

کلام: عبدالکریم شاد10 ستمبر، 20191,740قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اس سے مل کر میں یوں ملا خود سے
جیسے مدت سے تھا جدا خود سے
اک تعلق نباہنے کے لیے
توڑ بیٹھا ہوں سلسلہ خود سے
زہر کو زہر مار دیتا ہے
خوف کھاتا ہے آئینہ خود سے
میری آنکھوں میں عکس تھا اس کا
اس کو آتی رہی حیا خود سے
میرے وعدوں پہ اعتبار نہ کر
میں تو اکثر مکر گیا خود سے
منزل عشق سخت مشکل ہے
بھاگتا ہے یہ راستا خود سے
میں نے اس سے نباہ کر لی ہے
ہر گھڑی تھا معاملہ خود سے
جتنی نزدیک مجھ سے تھی منزل
میں بھی اتنی ہی دور تھا خود سے
دوسروں سے بھلا شکایت کیا
میں نے ہی کی نہیں وفا خود سے
پہلے اس کی نظر کا تھا شکوہ
اب تو رہتا ہے یہ گلہ خود سے
میری پہچان لے گیا کوئی
"میں رہا عمر بھر جدا خود سے"
آگ سے آگ کو بجھانا ہے
کتنا مشکل ہے جیتنا خود سے
ٹھیک ہے، اس کو بھول جاؤں گا
کہہ چکا ہوں میں بارہا خود سے
شاد! تم بھی کمال کرتے ہو
دوسروں سے وفا، جفا خود سے!
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اس سے مل کر میں یوں ملا خود سے - دی فری لانسر | دی فری لانسر