دوست داری کا جس کو پاس نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دوست داری کا جس کو پاس نہیں
خیر کی اس سے کوئی آس نہیں
دل لگانا کبھی نہ تم اس سے
جس میں کچھ بھی وفا کی باس نہیں
مجھ کو شکوہ ہو کیوں مقدر سے؟
غم زدہ ہوں مگر اداس نہیں
حق کا اتلاف ہے گنہ، ورنہ
کس کو دولت کی بھوک پیاس نہیں؟
جب سے آیا ہوں اس کے کوچے سے
میں کہاں ہوں کوئی حواس نہیں
غم کا شکوہ ہر ایک لب پر ہے
غم کا چارہ کسی کے پاس نہیں
اس کی قیمت نہیں زمانے میں
جو بھی انسان خود شناس نہیں
وہ ہے شاعر فقط سحر محمود!
فن پہ جس کے رداے یاس نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
ص
صفی الرحمن سلفی
22 ستمبر، 2019اس کی قیمت نہیں زمانے میں
جو بھی انسان خود شناس نہیں
بہت شاندار
قابل مبارکباد





