انا کی دھوپ نے بیمار کردیا اس کو
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
انا کی دھوپ نے بیمار کردیا اس کو
رہ وفا سے بھی بیزار کردیا اس کو
دلوں میں بستا مگر اس کی عادت بد نے
دیار قلب کا غدار کر دیا اس کو
وہ بانٹتا رہا خیرات چپکے چپکے مگر
کسی کی آہ نے بیدار کر دیا اس کو
جو شمع جلتی رہی رات بھر ترے گھر میں
کسی کے غم نے وفادار کردیا اس کو
چلے بھی آؤ کہ شب انتظار میں گزری
ترے ہی رنج نے غم خوار کر دیا اس کو
یہ آرزو تھی وصی کی، کھلا رہے گلشن
خزاں نے لوٹ کے بیکار کر دیا اس کو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





