جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ماں باپ کو جس نے بھی نکالا کہیں گھر سے

کلام: صبا شعیب29 ستمبر، 20191,832قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ماں باپ کو جس نے بھی نکالا کہیں گھر سے
پھر یوں ہوا دھتکارا گیا وہ بھی نگر سے
محنت جو تمہاری ہو صلہ تم کو ملے گا
ڈرتے ہو یوں تم کس لیے دشمن کی نظر سے
مل جل کے ہی رہنے میں بڑی خیر ہے لوگو
بے کار ہوا گِر گیا جو پھل بھی شجر سے
ممکن ہے کہ ظالم کے شکنجے سے تُو نکلے
گرویدہ بنالے جو تو ہر اِک کو ہنر سے
خاطر سے اُسے دل میں بسا لے تو صبؔا پھر
ممکن ہی نہیں لوٹ وہ جائے ترے گھر سے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ماں باپ کو جس نے بھی نکالا کہیں گھر سے - دی فری لانسر | دی فری لانسر