حرمین کی وجہ سے سعودی عرب ہر مسلمان کے لیے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ حرمین سے محبت اور ان کی حرمت و عظمت ایمان کا تقاضہ ہے۔لیکن کیا حرمین کی وجہ سے مملکت کے حکمرانوں کو بھی عظمت و تقدس کا وہی مقام حاصل ہے جس کی وجہ سے کسی بھی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ ان حکمرانوں کے کسی بھی پالیسی پر گفتگو کرسکے تو اس کا جواب یقیناً نفی میں ہوگا کیونکہ اس خطے میں حکمرانوں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ محبت و عقیدت کے پیمانے بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ترک عثمانی دور خلافت میں جب یہاں پر مزاروں اور قبوں کی بہتات تھی اس وقت ان کے چاہنے والے اور تھے اور جب مملکت کو کتاب و سنت کے ما تحت کرنے کا اعلان کیا گیا تو نظر عقیدت تبدیل ہوگئی،
لیکن گزشتہ دو سالوں میں عالمی سیاست و معیشت میں آنے والی تبدیلیوں نے نہ صرف اقوام عالم کو متاثر کیا ہے بلکہ سعودی عرب کی موجود ہ حکومت بھی سیاست و معیشت میں انقلابی تبدیلیوں کے نام پر اپنی ایک نئی شناخت بنا نے کے لیے کوشاں ہے۔جدت اور معتدل اسلام کی واپسی کے نام پر بعض ایسے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں جو نہ صرف کتاب و سنت سے متصاد م ہیں بلکہ سعودی عرب کے معاشرے کو تبدیل کردینے والے ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ سعودی عرب میں کتاب و سنت کی بالا دستی اسلام کے معتدل چہرے کی ہی نمائندگی کرتی رہی ہے۔اور اگر اب اس سے ہٹ کر نئے خطوط پر حکمرانی کا خواب دیکھا جارہا ہے تو گویا کہ یا تو اب تک سعودی کا نظام شدت پسندی کا شکار تھا یا اب اس میں بگاڑ پیدا ہونے والا ہے۔جب ولی عہد محمد بن نائف کو معزول کرکے محمد بن سلمان کو ولی عہد نامزد کیا گیا تو یہ محض عہدے سے معزولی نہیں تھی بلکہ سعودی روایات،
سعودی حکومت کے یہ ترجمان سوشل میڈیا کی دنیا میں بہت زیادہ متحرک ہیں اور کسی بھی تحریر کا رد کرنے کے لیے درج ذیل نکات کا استعمال کچھ زیادہ ہی مزہ لے کراجتماعیت کے ساتھ کرتے ہیں۔
ٹکے کا مولوی:
پوری دنیا میں کسی اور ملک کی پالیسی پر گفتگو کرنے والوں کی علمیت سےمتعلق سوال نہیں کیا جاتا ہے۔بلکہ اگر مزاج اور فکر سے موافقت ہے تو اسے فوراً قبول کرلیا جاتا ہے لیکن بات اگر موجودہ سعودی اقدامات پر ہو تو گفتگو ثانوی حیثیت اور ہم مزاج شخصیات اولیت رکھتی ہیں۔گویا کہ سعودی اقدامات پر نکیر کرنا دنیا کی سب سے بڑی جہالت اور اس کی تائید علمیت کی بلندی کی دلیل ہے۔عام طور پر آج قحط الرجال کا رونا ہے کہ اہل علم دنیا سے جارہے ہیں جن کی بھرپائی ہونا مشکل ہے لیکن سلفی سائبر سیل کی دنیا میں ماشاء اللہ آج بھی ابن تیمیہؒ اور ابواکلامؒ جیسی بلند پایہ علمی شخصیا ت موجود ہیں۔جو نہ صرف ہر محاذ پر سعودی حکمرانوں کی ترجمان ہیں بلکہ ان کی پالیسیوں پر نقد کرنے والوں کو دائرہ سلفیت سے خارج کرکے نفاق اور تحریکیت و شیعیت کا ہم خیال بنانے میں ید طولی رکھتی ہیں۔یقینی طور پر یہ مزاج سلفی تحریک (براہ کرم تحریکی نہ پڑھیں) کو کامیابیوں کے نئے افق سے روشناس کرائے گا۔کیونکہ اب سلفیت کی تعریف محض سعودی حکمرانوں کے ہر اقدام کی مکمل تائید سے عبارت ہے اور اس سے اختلاف کرنے والے تحریکی،
صدقے کا پیسہ:
تنقید کی دنیا میں یہ بھی ایک نیا اصول پیدا ہوگیا کہ مدرسے میں رہ کر آپ کی تعلیم سعودی صدقے کے طفیل ہی ہوئی ہے۔اس سعودی صدقے پر پلنے اور پڑھنے والوں کو اس بات کا قطعی حق نہیں کہ وہ اس ملک کی کسی بھی پالیسی کے خلاف کچھ بھی کہیں اور لکھیں لیکن علامہ زماں اور ذہبی دوراں کا یہی اصول ملکی پالیسیوں پر نافذ نہیں ہوتا ہے جب کہ ملک کی قومی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ریلوے،
مولوی پیسے کے بغیر ایک لفظ نہیں بولتا:
اب جنھیں لفافوں کا تجربہ ہے او ر جو اپنی نششتی تقریروں کا بھی چارج جی ایس ٹی کے ساتھ وصولتے ہیں وہ تو سب کے بارے میں یہی سوچتے ہوں گے کہ سب ہماری طرح لفافوں کی بنیاد پر ہی دعوتی ذمے داری ادا کررہے ہیں۔اور یہ تو منتظمین ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ کون مولوی بغیر پیسے کے ایک بھی لفظ نہیں بولتا ہے۔کیونکہ ان کے اخراجات کی فہرست میں ہر صاحب لفافہ کا تذکرہ مل جائے گا۔
غیر مستند ذرائع اور جھوٹی خبریں ہیں:
سعودی حکومت کی ترجمانی کرنے والے سب سے پہلے مخالف تحریروں کا رد کرنے کے لیے ان تمام ذرائع ابلاغ کو یہودیت،
سعودی معیشت کے لیے انقلابی اقدامات ہیں جو مخالفین کو حسد کے مارے سونے نہیں دے رہا ہے:
نیوم پروجیکٹ،
ہر کوئی سعودی عرب کے پیچھے ہی ہاتھ دھو کر کیوں پڑا رہتا ہے؟
سعودی عرب سے متعلق لکھنے بولنے یا پڑھنے والے دوگروہ ہیں۔ایک وہ جو وہاں کے طرز حکمرانی کی وجہ سے روز اول سے ہی اس کے دشمن ہیں اور وہ آج تک ہر معاملے میں سعودی عرب کی مخالفت کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے چلے آئے ہیں۔اور دوسرے وہ جو حرمین کے ساتھ وہاں کے حکمرانوں اور طرز حکمرانی دونوں سے محبت کرنے والے ہیں کیونکہ یہ کتاب و سنت سے محبت کرنے والا معاملہ اور اس دور میں روئے زمین پر قائم واحد اسلامی سلطنت سے لگائو کا اظہار ہے کیونکہ دنیا کے دیگر اسلامی ممالک سعودی عرب کے برعکس کتاب و سنت کی حکمرانی کے دعویدار نہیں ہیں۔اس لیے ان کی غلطیوں پر بات کرنے سے کوئی فائدہ ہی نہیں ہے لیکن اگر کتاب و سنت کے نام پر فکری انحراف کا مظاہر ہ سعودی عرب سے ہوگا تو اس سے اسلام کی شبیہ کو نقصان پہنچے گا۔اس لیے اس پر اپنی تشویش نہ کہ سعودی عرب سے بغض اور دشمنی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ مملکت کے حکمراں ہندوستانی مسلمانوں کی آواز کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر حرم مکی کے امام مختلف مواقع پر ہندوستان میں حکومتی دوروں پر نہ آتے۔ان کی آمد یہ بتلاتی ہے کہ اب تک سعودی حکومت بر صغیر کے مسلمانوں کی تشویش کو سنجیدگی سے دیکھتی آئی ہے۔آگے کا حال اللہ کو معلوم ہے۔
نقطہ نظر میں اختلاف رکھنے والوں کی دعائے خیر پر بھی منافقت کا حکم لگانے والوں سے مؤدبانہ التماس ہے کہ حسب سابق اگر یہ تحریر آپ کو رافضیت یا تحریکیت کے زیر اثر نظر آرہی ہے تو براہ کرم کوسنے یا طعن و تشنیع کے بجائے میرے حق میں اللہ سے دعائے خیر کریں کہ وہ مجھے ہدایت کا راستہ دکھلائے کیونکہ مجھے کسی کی دعا پر شک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔آپ کی دعاؤں پر میں نے پیشگی آمین کہہ لی ہے۔





