جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

بیٹھے ہیں طالبان ِ کرم رات بھر چلے

کلام: فائز بلرامپوری1 اکتوبر، 20191,619قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بیٹھے ہیں طالبانِ کرم رات بھر چلے
یہ رقصِ اہلِ دیر و حرم رات بھر چلے
پھرصبح کو کریں گے یہیں ماتمِ حیات
پہلے تفنگ و تیغِ ستم رات بھر چلے
دیکھیں گے آج حوصلۂ اہلِ انجمن
یہ جشنِ نو بہارِ الم رات بھر چلے
اس نقش پا سے ہو نہ سکا روبروئے صبح
جس نقش پاکے ساتھ قدم رات بھر چلے
لاتے ہیں کچھ پیامِ مسرت پیامبر
شائد اسی امید میں دم رات بھر چلے
مجھ کو نہیں ہے آرزوئے شمعِ راہ شب
ان کا خیال میرے بہم رات بھر چلے
آخر کو جا کے نازِ سخن تب ہوا کوئی
تاروں کے ساتھ پہلے قلم رات بھر چلے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

بیٹھے ہیں طالبان ِ کرم رات بھر چلے - دی فری لانسر | دی فری لانسر