دنیا کی سب سے مشہور و معروف اور مستند ترین انگریزی ڈکشنری آکسفورڈ ڈکشنری کی روایت رہی ہے کہ وہ ه ہر سال کے اخیر میں کسی ایک لفظ کو ‘سال کا لفظ قرار دیتی ہے۔آکسفورڈ ڈکشنری ‘سال کے لفظ کو منتخب کرنے کی تفصیل درج کرتے ہوئے لکھتی ہے:
’’آکسفورڈ ڈکشنری کے ذریعہ منتخب کردہ ‘سال کا لفظ ایسا لفظ یا محاورہ ہوتا ہے جس نے پچھلے بارہ مہینوں کے دوران بہت زیادہ توجہ حاصل کی ہو۔ہر سال ہم ’سال کے لفظ‘ کے طور پر کئی امیدوارالفاظ کے سلسلے میں غور و خوض کرتے ہیں اور کسی ایسے لفظ یا محاورہ کو فاتح قرار دیتے ہیںجو اس سال کے اقدار،
۲۰۱۷ کا لفظ
ہر سال کی طرح،
Antifa, Broflake, Gorpcore, Kompromat
Milkshake Duck, Newsjacking, Unicorn, White fragility, Youthquake
ان نو الفاظ میں سے لفظ ’Youthquake’ ‘کو فاتح قرار دیا گیا اور اس طرح سے ‘’سال کا لفظ‘کا سہرا اس کے سر پر سجایا گیا۔
لفظ کی تعریف
آکسفورڈ ڈکشنری میں اس لفظ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:
’’ایک ایسی اہم تہذیبی،
اس لفظ کو منتخب کرنے کی وجہ
آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق،
’’ ہم نے ‘’یوتھ کویک‘ کا انتخاب شواہد اور لسانی دلچسپی کے باعث کیا ہے۔لیکن میرے نزدیک اہم ترین بات یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ہماری زبان پر ہمارے گہرے ہوتے اضطراب اور تھکے ماندے اعصاب کا پرتو پڑ رہا ہے،
لفظ کی تاریخ
اس لفظ کا استعمال پہلی بار ۱۹۶۵ میں ‘’ووگ یو ایس‘ کی مدیر ڈیانا وری لینڈ نے کیا تھا۔انھوں نے اس لفظ کو ‘’ارتھ کویک‘ کی طرز پر بنایا تھا۔جنوری۱۹۶۵ میں ‘’ووگ یو ایس‘ کے ایک اداریہ میں ڈیانانے لکھا:
’’سال اپنے شباب پر ہے،
اس مختصر سی بحث کے بعد،
اگر ہم اس لفظ اور اس کے مدلولات کا جائزہ مشرقی معاشرے کے پس منظر میں لیں،
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کی گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا
شاہیں تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ
تو اور بھی اس آگ کو بازو سے ہوا دے
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہٰی
آئین جواں مردی حق گوئی و بے باکی
الله کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
یقیں محکم،
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سال ۲۰۱۷ کے لیے اس لفظ کا انتخاب ساری دنیا کے جوانوں کے لیے بطور عام اور امت مسلمہ کے جوانوں کے لیے بطور خاص ایک یاد دہانی ہے: ان کی اہمیت کی یاد دہانی،
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا





