ایک امید بندھی رہتی ہے ہر گام کے ساتھ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ایک امید بندھی رہتی ہے ہر گام کے ساتھ
ایک آغاز لگا رہتا ہے انجام کے ساتھ
خوش بھی ہوتے نہ بنے غم بھی مناتے نہ بنے
زہر کچھ ایسا پلایا ہے مجھے جام کے ساتھ
ایسا لگتا ہے بناتی ہے غزل اپنی زمین
"جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ"
سانس لیتے ہیں مگر زندہ نہیں رہتے ہم
یعنی پرواز تو کرتے ہیں مگر دام کے ساتھ
ڈوبتا دیکھ کے سورج کو پریشان نہ ہو
آئیں گے چاند ستارے بھی اسی شام کے ساتھ
ہر خوشی میرے تغافل کا گلہ کرتی ہے
پیش آتا ہوں میں اس طرح سے آلام کے ساتھ
یہ جو ہر بار اسے ملتی ہے نا کامی شاد!
کام یابی کا کوئی عہد ہے نا کام کے ساتھ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





