آرزو تیری ضرورت سے زیادہ کر کے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آرزو تیری ضرورت سے زیادہ کر کے
تجھ کو کھوتے رہے پانے کا ارادہ کر کے
اس قدر وہم و گماں دل پہ گزرتے ہیں کہ ہم
ٹال دیتے ہیں محبت کا ارادہ کر کے
لوٹتا ہوں میں کئی رنگ کے چھینٹے لے کر
جب نکلتا ہوں شرافت کو لبادہ کر کے
وہ یہ کہتے ہیں انھیں رند نہ دیکھے کوئی
اپنے چہرے کو سبو چشم کو بادہ کر کے
عمر بھر پیستے رہتے ہیں یہ رشتے ناطے
خاک میں ہم کو ملاتے ہیں برادہ کر کے
غمِ دنیا نے چھڑانے کی بہت کوشش کی
عشق نے چھوڑا مجھے چاک لبادہ کر کے
لوگ کھو جاتے ہیں بازار کی رنگینی میں
اس لیے رکھا ہے میں نے انھیں سادہ کر کے
میرے جذبات کھلونوں کی طرح بکھرے ہیں
دل کو برباد کیا میں نے کشادہ کر کے
منزلیں شاد! بس اک موڑ ہوا کرتی ہیں
ہم نے دیکھا ہے سفر جادہ بہ جادہ کر کے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





