میں اس کی چرب زبانی پہ مشتعل نہ ہوا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
میں اس کی چرب زبانی پہ مشتعل نہ ہوا
وہ میرے ضبط پہ ہنستا رہا خجل نہ ہوا
سمجھ گیا کہ غلط راہ پر چلا ہوں میں
مرے سفر میں مخالف کوئی مخل نہ ہوا
ہزار بار تماشا کرے مسیحائی
یہ زخم عشق کا شیوہ ہے مندمل نہ ہوا
کئی چراغ بھی روشن کئے ہیں مولا نے
جہان صرف ہواؤں پہ مشتمل نہ ہوا
غمِ حیات کو یاروں میں بانٹنا چاہا
مگر یہ بار کسی طرح منتقل نہ ہوا
یہی تو بات بھلی ہے ترے زمانے کی
فراقِ یار بھی جو حالِ مستقل نہ ہوا
اسے خیال رہا اپنے بیوی بچوں کا
بدن غریب کا اک پل بھی مضمحل نہ ہوا
نگاہ عشق بھی اٹھی تو جھک گئی فورا
برہنہ حسن ترا پھر بھی منفعل نہ ہوا
جھٹک کے پاؤں گزر جاؤ دہر سے اے شاد!
"بشر وہی، جو گرفتارِ آب و گِل نہ ہُوا"
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





