مری زیست بے زار تھی آئنے سے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مری زیست بے زار تھی آئنے سے
ملے تم تو بننے لگی آئنے سے
کہوں کیا ترے بعد خلوت کا عالم
گریزاں رہا عکس بھی آئنے سے
انھیں بس جوانی کے آثار کہیے
جو ہونے لگی دوستی آئنے سے
یہ خوش فہمیاں دور ہو جائیں گی سب
ذرا بات کرنا کبھی آئنے سے
قصیدہ لکھا ایک پتھر کا اس نے
اور اس بات پر داد لی آئنے سے
وہی راز داں اور منصف وہی ہے
کریں بات کیا ہم کوئی آئنے سے
سمجھتا تھا میں خود کو تنہا جہاں میں
مجھے کچھ تسلی ملی آئنے سے
یہ چاروں طرف پتھروں کے صنم ہیں
وہ کیا ہو گئے آدمی آئنے سے
نظر چاہیے دیکھنے کے لیے شاد!
نکلتی ہے اک روشنی آئنے سے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





