خودی کو پاؤں میں روندو کہ سر کا تاج کرو
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
خودی کو پاؤں میں روندو کہ سر کا تاج کرو
غلام بن کے مرو یا جہاں میں راج کرو
برائے امن و اماں ظلم کے خلاف اٹھو
زمین شور میں پیدا ہرا اناج کرو
ہوا کے رخ میں ضرور انقلاب آئے گا
وہ ظلم ڈھاتا ہے ڈھائے تم احتجاج کرو
طرح طرح کے گلوں سے ہے باغ کی رونق
نہ افتراق کا پیدا کوئی رواج کرو
وہ دن بھی دور نہیں ہے، سماج سے ہٹ کر
ہر ایک فرد کہے گا مجھے سماج کرو
میں وہ چراغ ہوں جو آندھیوں کی زد میں ہے
ہوا کے عین مطابق مرا مزاج کرو
نہ جانے کیسی دوائیں طبیب نے دی ہیں
مریض شور مچاتا ہے، مت علاج کرو
ضرور ہوگا اجالا تمام عالم میں
تم اپنے حصے کا روشن اگر سراج کرو
تمھارا کام یہی رہ گیا ہے کارندو!
ہمارے تیل سے حکام کا مساج کرو
ہمیں صحیح و غلط کا شعور ہے اے شاد!
تو باغیوں میں ہمارا بھی اندراج کرو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





