چند اہم ترین باتیں جنہیں ہمارے ملک کی پولیس و حکومت آندولن و مظاہرے کے وقت یکسر نظر انداز کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے شانتی و سد بھاؤ سے چل رہا آندولن تشدد کا شکار ہوجاتا ہے. وہ پولیس جو عوام سے ان مظاہروں میں اپیل کرتی ہوئی نہیں تھکتی کہ عوام شانتی پوروک احتجاج کریں اگر وہ پولیس ملک کے آئین کی یہ باتیں مان لیں تو آندولنوں میں کوئی دنگا ہی نہ ہو اور نہ ہی ملک کو کوئی نقصان پہنچے.
دراصل یہ وہ چند اہم باتیں ہیں جو میں نے فیضان مصطفی وائس چانسلر نلسار یونیورسٹی حیدرآباد کے یوٹیوب چینل "لیگل اویرنیس سیریز آف فیضان مصطفی" میں کل کی ایک بہت اہم موضوع پر ویڈیو سنی جس میں آپ نے " طلباء کے احتجاج و پولیس و بھیڑ کے کنٹرول پر قانون" پر بہتر انداز سے روشنی ڈالی ہے.
مکمل پروگرام دیکھنے کے بعد اس کی اہمیت و ضرورت فی الوقت سماج میں جو محسوس کی جارہی ہے کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے.
کسی بھی بھیڑ اور اس کے آندولن کو کنٹرول کرنے کے لئے جو اہم ترین باتیں ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
بھیڑ میں موجود عوام کا آئی قیو IQ لیول پانچ سال کے بچے کے برابر ہوتا ہے. یہ بات بڑے بڑے نفسیات کے ماہرین نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے جیسے "لیبان و میک ڈوگال" وغیرہ. اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے بھیڑ کے ساتھ پولیس کا سلوک ہونا چاہئے.
جب ہم اپنے ملک کا قانون پڑھتے ہیں تو پاتے ہیں کہ ہماری آئین کے حساب سے سات سال تک کے بچے کی غلطی پر اسے کوئی سزا نہیں دی جائے گی.
اسی طرح کبھی بھی یہ گمان نہیں رکھنا چاہئے کہ بھیڑ بہت ہی سنبھل کر اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے آندولن کرے گی،
بھیڑ میں کوئی بھی پرابلم اگر آئے گی تو وہ بھیڑ فورا اس کا حل چاہے گی اور وہ حل کیسا بھی ہو بھیڑ اسی کے پیچھے چلنا شروع کردے گی اس لئے آندولن کرنے والوں کو اس بات کا خصوصی دھیان دینا چاہئے کہ وہ لیڈر کس کو بنارہے ہیں،
بھیڑ میں قائد کی بات بھی کبھی کبھی نہیں مانی جاتی تو اس وقت قائد کو چاہیے کہ بھیڑ کے ذھن کو مشغول رکھے اسے امیدیں دلائے اور کوشش کرے کہ انہیں کسی بھی طرح سے شانت کیا جائے،
اس وقت ملک کے اندر یہ آندولن و احتجاج کیوں ہو رہے ہیں ان کے مندرجہ ذیل وجوہات ہیں:
1. لوگوں کی شہریت پر خطرہ منڈلا رہا ہے
2. شہریت ترمیمی ایکٹ یعنی CAA کو عوام ملکی شہریت اندراج یعنی NRC کے ساتھ دیکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ خوف زدہ ہیں.
3. آسام کے حالات دیکھنے کے بعد ملک کا ہر باشندہ خوف وہراس میں جی رہا ہے.
اس میں سرکار و پولیس کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ عوام سے اس خوف و ڈر کو ختم کیا جائے اور ان کے لئے آسانی پیدا کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے.
پولیس والوں کا کردار احتجاج و آندولن میں کافی زیادہ اہم ہو جاتا ہے،
ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہرال نہرو آئی جی IG کی ٹیم کو سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر پولیس عوام پر چلاتی ہے تو وہ قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے،
فی الوقت چل رہے آندولنوں میں پولیس کی بربرتا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی و علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء پر قاتلانہ و سفاکانہ حملہ کس بات کا ثبوت دیتا ہے.
آج کی پولیس طلباء کو اسامہ بن لادن کا ٹولہ کہتی ہے. پاکستانی ہونے کا طعنہ دیتی ہے. کٹوے ملے اور آتنکوادی بولتی ہے.
یہ عمل پولیس ان لوگوں کے ساتھ کرتی ہے جن کے ذھن کا آئی قیو لیول 5 ہے جبکہ پولیس اور حکومت کا آئی قیو لیول اس وقت بالکل ٹاپ پر ہونا چاہئے کیونکہ انہیں ان حالات کو کنٹرول کرنا ہے.
پولیس کی ذمہ داری ہے کہ بھیڑ کے جذبات کو سمجھیں اور انہیں پیار و محبت سے کنٹرول کریں.
یہ ساری تفصیلات بی پی آر ڈی کتاب جو ہوم منسٹری سے چھپی ہوئی ہے اس میں لکھی ہوئی ہیں.
بھیڑ کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟
ایک واقعہ اس کتاب میں لکھا ہوا ہے جو بتلاتا ہے کہ پولیس کا سلوک بھیڑ والوں کے ساتھ کیسا ہو.
اترپردیش کے کسی شہر میں بار بار لائٹ جا رہی تھی جس سے وہاں کی عوام کافی زیادہ پریشان تھی بھیڑ کو غصہ آیا اور ان لوگوں نے آندولن شروع کردیا-اس وقت کے ایس پی پبلک کے ساتھ بیٹھ گئے اور بجلی جب تک صحیح نہ کر لی گئی نہیں ہٹے،
اسے کہتے ہیں اچھی پولیسنگ،
1. پولیس کو ہمیشہ دماغ ٹھنڈا رکھنا چاہئے،
2. پولیس کو پوری کوشش کرنی چاہئے کہ بھیڑ کو کسی کام میں مشغول کردے مثلا. ان سے کہے کہ اپنی شکایت لکھ کر دو ہم اسے اعلی کمان تک پہنچانے کی ذمہ داری لیتے ہیں.
ایک واقعہ: آزادی سے پہلے 1942 میں بہار یا بنگال میں ایک اسٹیشن پر بھیڑ نے حملہ کر دیا اس وقت بھارت چھوڑو تحریک کا زمانہ تھا،
3. افواہ نہ اڑائیں
جامعہ ملیہ کے طالب علم کی موت کی افواہ نے طلباء کے ذھن و دماغ کو ماؤف کردیا اور وہ سڑکوں پر آگئے اور پھر ان پر پولیس کی بربرتا اتنی کہ کسی کے ہاتھ ٹوٹے تو کسی کے پیر،
پولیس ایکٹ نمبر 1861 اس میں سیکشن 30 کہتا ہے کہ عوامی اجتماع میں پولیس کی اجازت لینا ضروری،
اسی طرح سی آر پی سی کا سیکشن 129 کہتا ہے کہ پولیس یہ کہتی رہے گی کہ بھیڑ الگ الگ ٹولیاں بنا کر چلے.
اسی طرح سیکشن 153 کہتا ہے کہ پولیس کوئی ایسا جملہ نہ کہے جس سے منافرت کی بو آتی ہو کمیونل نہ ہو،
اگر کوئی پولیس ایسا کرتا ہے تو وہ مجرم قرار پائے گا.
پولیس فورس:
1. آندولن اور احتجاج کی جگہوں میں پولیس فورس کم سے کم رہے .
2. فورسز کبھی بھی بھیڑ کو سزا دینے کے لئے نہیں بلکہ انہیں منتشر کرنے کے لئے ہوتی ہیں.
حالانکہ جامعہ کے واقعے میں اس طرح کی ویڈیو موجود ہے جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پولیس نے گولیاں چلائیں،
3. فورس کو فورا وہاں سے واپس بلا لیا جائے گا.
4. پولیس مظاہرین کومار نہیں سکتی صرف وارننگ دے سکتی ہے. جب ان تمام احتیاطات سے کام نہ چلے تو پھر آنسو گیس کا حملہ کیا جائے گا اور پانی کے فوارے سے کام چلایا جائے گا تاکہ پبلک تتر بتر ہو سکے الگ ہو سکے.
چند اہم ترین باتیں تھیں جو آپ قارئین کے حوالے کرنے کی کوشش کی ہے.





