مواخات یعنی بھائی چارہ جس سے آپس میں اتحاد ویکجہتی پیدا ہوتی ہے،
مواخات یا اخوت اسلام کا بنیادی عنصر ہے،
افسوس! مسلمانوں نے اخوت کا یہ درس اجتماعی طور پر ریجیکٹ کردیا ہے تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ درس نا قابل عمل تھا اور اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا ہی درست تھا! بالکل نہیں!
مسلمانوں نے نہیں اپنایا تو کیا ہوا یہودیوں نے اسے سینے سے لگایا،
یہودیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آر ایس ایس والے ہندوؤں نے بھی اخوت کا سبق پڑھا اور اسے ازبر یاد کرلیا۔پانچ سال قبل مسند حکم پہ بیٹھتے ہی انہوں نے مواخات کے اصلی مفہوم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کمر کس لیا ہے! پچھلے دنوں آسام میں جو کچھ ہوا وہ انہیں ایک آنکھ نہ بھایا کیونکہ اس عمل میں ان کے بھائی برادران بھی پیس دئے گئے،
اس کے برعکس مسلمانوں کو اس اخوت ومواخات کے لفظ سے اتنی چڑ ہوگئی ہے کہ مسلمانوں کے امراء نے تو اپنے یہاں کام کاج کے لئے بھی غیر مسلموں کو ترجیح دینا شروع کردیا ہے! خدا کی اسی دنیا میں کئی مسلم ممالک ایسے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کا قتل عام کرنے والوں کو تمغۂ امتیاز سے سرفراز کیا ہے۔انہی قاتلوں کی جلو میں چلتے ہوئے فخر محسوس کیا ہے! یہ امیر لوگ کبھی کبھی نادار مسلمانوں کی مالی اعانت کرکے سمجھتے ہیں انہوں نے حق ادا کردیا۔یہ محض ان کے سوچ کی گراوٹ ہے۔آج مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور زیادتیوں کو دیکھ کر دنیا کے کئی غیر مسلم اقوام بلبلا اٹھے اور وہاں کی حکومتوں نے مذمتی بیان دے کر اپنی ناراضگی کا برملا اظہار بھی کیا۔لیکن کسی مسلم حکمراں کے ماتھے پہ بل تک نہیں آیا گویا کچھ ہوا ہی نہیں! شرم تم کو مگر نہیں آتی!
آر ایس ایس نے اپنے پڑوسی ممالک کے تمام ہندوؤں کو خوش آمدید کہا اور ان کی خاطر اپنے ہی دیس باسیوں سے دشمنی مول لے لی لیکن 57 مسلم ممالک اور لکژری ڈنر پر ہڈیاں نوچنے والی اسلامی تنظیم OIC نے مسلمانوں کے تئیں لب تک نہیں کھولا۔ایک مذمتی بیان کی حد تک بھی سولیڈرٹی نہیں ظاہر کی! پھر بھی دعوی ہے مسلمانی کا! اقبال نے کہا تھا:
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہے سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
اقبال نے قوم مسلم کا یہ شکوہ تقریبا سو سال پیشتر کیا تھا لیکن یہ مسئلہ آج بھی تر وتازہ اور جوں کا توں باقی ہے۔
انگریزی عہد سے لے کر ماضی قریب تک اپنی تمامتر بے بضاعتی کے باوجود ہندی مسلمانوں نے اسلامی سولیڈرٹی اور مواخات کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ترکی کی خلافت برقرار رکھنے اور اسے پائمال ہونے سے بچانے کے لئے اسی ممبئی شہر میں آج سے ٹھیک سو سال پہلے مسلمانان ہند نے آل انڈیا خلافت کمیٹی قائم کی! سعودی حکومت کے قیام کے وقت ہندی مسلمانوں نے حتی المقدور امداد فراہم کی اور بہت سارے ملی مسائل میں پورا تعاون کیا۔مگر آج مصیبت کی گھڑی میں یہاں کے مسلمان گُہار لگا رہے ہیں اور سننے والا کوئی نہیں! سچ ہے لا حياة لمن تنادي! جسے تم پکار رہے ہو اس میں زندگی کی رمق ہی نہیں!
ہندوستانی مسلمانوں کو دوسروں سے نگاہیں پھیر کر تنہا لڑنا ہوگا؛





