جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

میں اس بے محل قانون کا انکار کرتا ہوں

کلام: عبدالکریم شاد24 دسمبر، 20191,496قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بآوازِ بلند اس بات کا اظہار کرتا ہوں
کہ میں اس بے محل قانون کا انکار کرتا ہوں
وہی قانون جو ٹکڑوں میں ہم کو بانٹ دیتا ہے
کسی کو منتخب کر کے کسی کو چھانٹ دیتا ہے
جو حق کی بات کی جائے تو حاکم ڈانٹ دیتا ہے
تو اس کی ڈانٹ پر یوں احتجاجا وار کرتا ہوں
کہ میں اس بے محل قانون کا انکار کرتا ہوں
ہمارے ملک کو یہ خاصیت ممتاز کرتی ہے
یہاں کی ہر کلی اپنے چمن پر ناز کرتی ہے
بہار آئے خزاں آئے وہ اک آواز کرتی ہے
اسی آوازِ یک رنگی کا میں اقرار کرتا ہوں
کہ میں اس بے محل قانون کا انکار کرتا ہوں
تمھارے جبر و استبداد کی ہم کو نہیں پروا
خدا خود کر رہا ہے رہ بری ہم کو نہیں پروا
وہ سی اے اے ہو یا این آر سی ہم کو نہیں پروا
تمھاری ہر طرح کی چال کو بے کار کرتا ہوں
کہ میں اس بے محل قانون کا انکار کرتا ہوں
یہ گاندھیؔ کا وطن ہے اور یہی آزادؔ کا بھی ہے
محبت کا فسانہ قیس کا فرہاد کا بھی ہے
بھگت سنگھ کا جو دعوی تھا وہی تو شادؔ کا بھی ہے
وہی دعوی محبت کا ہزاروں بار کرتا ہوں
کہ میں اس بے محل قانون کا انکار کرتا ہوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

میں اس بے محل قانون کا انکار کرتا ہوں - دی فری لانسر | دی فری لانسر