جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اے وطن! پیارے وطن!!

کلام: فائز بلرامپوری30 دسمبر، 20191,822قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اے وطن پیارے وطن تیرا تصور دل سوز
اے وطن خاک وطن تیرا تقدس پا مال
اے وطن زینت ِ رخسار ِ زمیں نازِ فلک
تر ےدامن میں ہوئی جاتی ہےاب زیست محال
ہر نگہ ناز پہ چھایا ہے عداوت کا خمار
ہر زباں خوں کا طلب گار ہوئی جاتی ہے
ہر تبسم کہ لٹا جاتا ہے رخساروں سے
ہر تمنا کہ سرِ دار ہوئی جاتی ہے
اے شہنشاہِ اذیت ترے اس جبر کے بعد
کم سے کم مسندِ شاہی سے اترنا ہے تجھے
آج ہے وقت کے ہاتھوں میں ترا ہاتھ سو ہو
ایک دن وقت کے ہاتھوں سے ہی مرنا ہے تجھے
آج ہے قابض ِ مخلوق خدا تو کیا ہے
تُو بھی ہوگا یہی مخلوق خدا بھی ہوگی
کون ہوگا پس ِ زندان وقفس دیکھیں گے
یہی موسم، یہی شبنم یہ صبا بھی ہوگی
تو ہے گر امن کا معمار تو پھر کیوں آخر
خوں میں ڈوبا ہے ابھی تک کفِ پوشاک وطن
تو ہی مظلوم اگر ہے تو چلو دیکھتے ہیں
خون کس قوم کا شامل ہے پسِ خاک وطن
اٹھ رہی ہے شبِ وحشت سے صدائے پر سوز
مل رہے ہیں تری ناپاک مشیت کے سراغ
چھٹ رہے ہیں شبِ ظلمت کےکلیجے سے غبار
بجھ رہے ہیں ترے خوں خوار ارادوں کے چراغ
ہم تو محروم عدالت ہیں مگر زندہ ہیں
ظلم ا یسا ہے کہ ظالم بھی پریشاں ہوجائے
تجھ کوبھی ضدہے سویہ ضدبھی ہماراکہ چلو
فیصلہ وقت کا اب خارجِ ایواں ہوجائے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اے وطن! پیارے وطن!! - دی فری لانسر | دی فری لانسر