وہ ہلکے ہلکے قدموں سے چلتا ہوا سفارت خانہ میں واقع اپنی آفس میں داخل ہوا۔صبح کے گیارہ بج چکے تھے۔آج صبح دس بجے ہی کلچرل ہاؤس میں پروگرام تھا۔پروگرام میں شہر کے با اثر لوگ شریک تھے۔اس کی تقریر تھی۔۔۔
" ہم سب پہلے مسلمان ہیں،
پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔وہ اپنی آفس میں پہونچ کر اپنی کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔اس نے اپنا سر کرسی کی آرام دہ پشت پر ٹکادی اور ہولے سے اپنی آنکھیں موند لیں۔اس کی سماعت میں تالیاں پھر سے گونجنے لگیں۔وہ جھوم اٹھا۔تالیوں کی آواز کا نشہ ہی عجیب ہوتا ہے۔وہ اس میں دیر تک ڈوبا رہنا چاہتا تھا۔۔۔فون کی گھنٹی نے رنگ میں بھنگ ڈال دی۔تہران سے وزیر کا فون تھا۔۔۔
" سنئے،
وہ لمحہ بھر سانس لینے کے لئے رکا،
وزیر نے فون رکھ دیا لیکن فون رکھتے رکھتے بولا: "یہ کام جلد از جلد کریں،
وزیر کے فون رکھتے ہی سفیر نے اپنے سکریٹری سے انٹرکام پر بات کی:
" ایک گھنٹہ کے اندر اندر مجھے دس صحافیوں کی فائلیں اپنی میز پر چاہئے۔اپنے صحافیوں کی لسٹ تو آپ کے پاس ہے نا!"
" جی،
ٹھیک پچپن منٹ کے بعد،
سفیر ایک کے بعد ایک کر کے فائلوں کو دیکھنے لگا۔وہ ایک نظر پاسپورٹ پر دوڑاتا،
آخری فائل پر منظوری کی مہر لگا کر وہ دستخط کرنے ہی والا تھا کہ اس کی نظر دوبارہ پاسپورٹ پر پڑ گئی...
نام: علی عباس
باپ کا نام: محمد عمر
اس نے دستخط کرنے کے بجائے کراس کا نشان لگا دیا۔۔۔سکریٹری بوکھلا گیا:
" آغا،
سفیر غصہ سے آگ بگولہ ہو گیا۔وہ کرسی پیچھے دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا اور فائل کو میز سے اٹھا کر سکریٹری کے منہ پر مارتے ہوئے دہاڑا:
" عمر نام سے مجھے گِھن آتی ہے۔۔۔"





