جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

یقیں ہوا ہے کہ صحرائے علم و دانش میں

کلام: فائز بلرامپوری8 جنوری، 20201,864قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یقیں ہوا ہے کہ صحرائے علم و دانش میں
ابھی بھی ہستئی عرفاں کا طور روشن ہے
تمہارے خوں میں ہے شامل جنونِ اہلِ جگر
تمہارے دل میں چراغِ شعور روشن ہے
اے آبروئے دل و جانِ جامعہ ملیہ
تمہارے دم سے نظامِ خراب اٹّھے گا
تمہارے "شہرِ تمنا و آرزو" کی قسم
اُسی دیار سے اب انقلاب اٹّھے گا
اے ہمنوائے وطن رہ گزار تنگ سہی
جو چل سکو واسی رہ میں زندگی ہےابھی
دراز ہے شبِ ظلمت کی تیرگی لیکن
حریمِ قوم کے طاقوں پہ روشنی ہے ابھی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

یقیں ہوا ہے کہ صحرائے علم و دانش میں - دی فری لانسر | دی فری لانسر