جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

شاہین باغ

کلام: شیخ عبدالبر مدنی10 جنوری، 20202,001قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آج صلاۃ عشاء سے قبل شاہین باغ کے احتجاجی دھرنے میں شرکت کرنے گیا، محترمہ کویتا کرشن اور پروفیسر منوج جھا کا خطاب ہو رہا تھا، عوام کا جوش اور خواتین کا جذبہ قابل دید تھا، واپس آکر کچھ کہنے کو جی چاہا، تو یہ چند اشعار نظم ہو گئے:
کس زمیں کا نام ہے شاہین باغ؟
کس یقیں کا نام ہے شاہین باغ؟
چومتا ہے جس کو جھک کر آسماں
اس زمیں کا نام ہے شاہین باغ
جس نے روکا راستہ طوفان کا
اس یقیں کا نام ہے شاہین باغ
جس نے مُردوں کو عطا کی زندگی
اس زمیں کا نام ہے شاہین باغ
کر دیا مایوسیوں کو پاش پاش
اس یقیں کا نام ہے شاہین باغ
قوت نسواں کا جو مظہر بنی
اس زمیں کا نام ہے شاہین باغ
جھک نہیں سکتی جو باطل کے حضور
اس جبیں کا نام ہے شاہین باغ
جس پہ نازاں آج ہندوستان ہے
اس زمیں کا نام ہے شاہین باغ
آہ میری بھی وہی ہے سرزمیں
جس زمیں کا نام ہے شاہین باغ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

شاہین باغ - دی فری لانسر | دی فری لانسر