جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ڈٹینشن کیمپ

کلام: عبدالکریم شاد20 جنوری، 20201,752قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بول اے میرے وطنی بھائی!
جب شہریت چھن جائے گی
جب سی اے اے لاگو ہوگا
میں تجھ سے جدا ہو جاؤں گا
پھر کیا ہوگا؟ کیسے ہوگا؟
تو میری اذانیں سننے کو
کیا قید میں میری آئے گا
جب عید منائی جائے گی
تو کس کی سویّاں کھائے گا
ہم ساتھ رہے برسوں لیکن
کیا ایسا بھی سوچا تھا کبھی
یہ دھرم کے ٹھیکیدار ہمیں
ٹکڑوں میں ایسے بانٹیں گے
کیا میری خطا ہے بول ذرا
کیا تیری خطا ہے پوچھ ان سے
آخر تو کیوں مجبور ہوا
میں کیوں ایسے رنجور ہوا
کیا ان کی حکومت کی خاطر
ہم آپس میں ٹکرائیں گے
لڑ جائیں گے، مر جائیں گے
اک دوجے سے ہوں ہم بد دل
لیکن اس کا کیا ہے حاصل
کیا بھول گئے تاریخ اپنی
جب مل کر ہم نے جنگ لڑی
فتنہ پرور انگریزوں سے
کیا بھول گئے وہ جوڑی تم
جب گاندھی تھے آزاد کے ساتھ
سردار تھے جب غفار کے ساتھ
تب خون کی ہولی کھیلی تھی
تب ساتھ مصیبت جھیلی تھی
اب ساتھ نبھانا ہے کہ نہیں
ہم چھوڑ بھی سکتے تھے بھارت
اور چن سکتے تھے پاکستان
لیکن ہم کو منظور نہ تھا
اس دیش کی مٹی پیاری تھی
اب وقت ہے تو بھی ثابت کر
تجھ میں ہے وفا داری کتنی
پھر لاکھ ڈٹینشن کیمپ بنیں
پروا نہیں، تیرے دل میں تو ہوں
یہ غم بھی ستاتا ہے لیکن
تو بھی نہ کہیں پھنس جائے یہیں
جب شہریت چھن جائے گی
جب سی اے اے لاگو ہوگا
پھر کیا ہوگا؟ کیسے ہوگا؟
بول اے میرے وطنی بھائی!
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ڈٹینشن کیمپ - دی فری لانسر | دی فری لانسر