ہر بشر کے ہونٹوں پر زیست کا فسانہ ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہر بشر کے ہونٹوں پر زیست کا فسانہ ہے
موت کی حقیقت سے بے خبر زمانہ ہے
گرچہ خود شکاری کے دام کا نشانہ ہے
پھر بھی ہر پرندے کو فکر آب و دانہ ہے
زندگی کے کچھ ساماں مل گئے ہیں زنداں میں
لوگ یہ سمجھ بیٹھے اُن کا آشیانہ ہے
گھوم پھر کے آتے ہیں تیرے در پہ دیوانے
ورنہ ان کا دنیا میں اور کیا ٹھکانہ ہے
امتحان آنکھوں کا لے رہا ہے اک منظر
پیرہن ہے مردانہ اور بدن زنانہ ہے
یوں ہی سارے دیوانے کھوج میں نہیں پھرتے
دشت میں چھپا کوئی عشق کا خزانہ ہے
سن ہر ایک لمحے سے آ رہی ہے اک آواز
دیکھ موت کی جانب زندگی روانہ ہے
چال سے زمانے کی ہوش یار ہو جاؤ
ظالموں کے ہونٹوں پر امن کا ترانہ ہے
شاد بات کرتا ہے آج بھی محبت کی
اس کی بات کیا کیجے, وہ تو اک دوانہ ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
A
Aasim As'ad
13 فروری، 2020واہ بہت خوب جناب
سچی غزل کہی آپ نے
جزاک اللہ خیرا





