ہر گھڑی مرے دل پر، رنج و غم کا سایہ ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہر گھڑی مرے دل پر، رنج و غم کا سایہ ہے
درد یہ رگ و پے میں، کس طرح سمایا ہے
اشک اب نکلنے سے پہلے سوکھ جاتے ہیں
مجھ کو دنیا والوں نے، اس قدر رلایا ہے
میں تو خوب ہنس مکھ تھا، پر یہ ظلم کر کر کے
مجھ کو بعض لوگوں نے، تند خو بنایا ہے
اب کسی بھی انساں کا ڈر نہیں بچا دل میں
اک ڈرانے والے نے، اس قدر ڈرایا ہے
شکریہ کہوں کیسے اے الم، مجھے تو نے
زندگی کے جینے کا طرز جو سکھایا ہے
اصلیت یہ دنیا کی، آؤ تم کو بتلاؤں
ماسوائے خالق کے، سب کا سب یہ سایہ ہے
خواب جلتے دیکھے ہیں، ”مردے“ چلتے دیکھے ہیں
چار دن کے جیون نے، کیا سے کیا دکھایا ہے
چائے سے بھی اب مجھ کو، ہو گئی ہے نفرت سی
جب سے چائے والے نے، دیش کو جلایا ہے
سامنے سمندر ہے، پھر بھی دیکھو پیاسا ہوں
زندگی میں یہ میری کیسا موڑ آیا ہے
سوز و غم کی شدت سے، جب بھی دل جلا میرا
آنسوں کی بارش سے، آگ کو بجھایا ہے
غم میں مسکرانے کا، یونہی کب ہنر آیا
قتل کرکے خوشیوں کو، سولی پہ چڑھایا ہے
مدتوں کے بعد اتنی، مجھ کو خود کی یاد آئی
مدتوں کے بعد اسعد، میں نے خود کو پایا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





