رنگینیوں کو دیکھ کے تو خوش گماں نہ ہو
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
رنگینیوں کو دیکھ کے تو خوش گماں نہ ہو
یہ بھی تری نظر کا کوئی امتحاں نہ ہو
ظالم کو اپنی فتح و ظفر کا گماں نہ ہو
"بہتر یہی ہے لب پہ کسی کے فغاں نہ ہو"
آتش زنی کا طرز نرالا ہے آج کل
دل کو جلا کے کہتے ہیں اس میں دھواں نہ ہو
بچپن میں دیکھتے تھے جوانی کے خواب ہم
اور اب یہ سوچتے ہیں کہ بچہ جواں نہ ہو
ہم نے جو دل کو سنگ کی صورت بنا لیا
یہ خوف ہے کہ بارِ محبت گراں نہ ہو
سو مرگ ناگہاں! مری خواہش فضول تھی
میں جس جگہ رہوں مرا قاتل وہاں نہ ہو
تفتیش کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کر
ممکن ہے جس کا تیر ہو اس کی کماں نہ ہو
کہتے ہیں قلب کے در و دیوار چیخ کر
اک پل کو بھی مکین سے خالی مکاں نہ ہو
مدت سے دشت میں کوئی مجنوں نہیں گیا
ایسا نہ ہو کہ عشق کا نام و نشاں نہ ہو
رکھتا ہوں اپنے لب پہ تبسم کا میں حجاب
ڈرتا ہوں میرا درد کسی پر عیاں نہ ہو
مانا کہ موج رنگ بدلتی ہے بار بار
لیکن یہ کیا کہ زیست کا دریا رواں نہ ہو
اے دل! ہزار عقل کرے کوششیں مگر
خود سے کسی بھی حال میں تو بد گماں نہ ہو
جو بات بھی زباں سے نکالو یہ دیکھ لو
اے شاد! آس پاس کوئی نکتہ داں نہ ہو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





