جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

شاہین باغ

کلام: عبدالکریم شاد19 فروری، 20201,880قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ظلم پر اک وار ہے شاہین باغ
امن کا اظہار ہے شاہین باغ
خوف سے بیزار ہے شاہین باغ
عزم سے سرشار ہے شاہین باغ
جس کو سن کر کانپ اٹھے تخت و تاج
ایسی اک للکار ہے شاہین باغ
حق کی خاطر جان دینے کے لیے
بر سر پیکار ہے شاہین باغ
آزمائش ہو کسی بھی طرز کی
ہر طرح تیار ہے شاہین باغ
دیکھ گلچیں! چبھ نہ جائے ہاتھ میں
گلستاں کا خار ہے شاہین باغ
ملک بھر میں جو بپا ہے انقلاب
مرکزی کردار ہے شاہین باغ
بچ نہیں سکتے زمیں کے جابرین
آسمانی مار ہے شاہین باغ
کم نگاہو! اپنی صورت دیکھ لو
ئنہ بردار ہے شاہین باغ
سرخیاں منفی ہیں لیکن آج کل
رونقِ اخبار ہے شاہین باغ
صنف نازک بھی مجاہد بن گئی
خولہ کی تلوار ہے شاہین باغ
مدرسہ ہوتی ہے ماں اولاد کا
قوم کا معمار ہے شاہین باغ
پہلے پیچھے چل رہی تھیں عورتیں
آج تو سردار ہے شاہین باغ
ہم تو سمجھے تھے کہ ملت سو گئی
شکر ہے، بیدار ہے شاہین باغ
چلنے دے گا کب غلط قانون کو
راہ کی دیوار ہے شاہین باغ
اتحاد و ضبط و استقلال کا
شاد جی! معیار ہے شاہین باغ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

شاہین باغ - دی فری لانسر | دی فری لانسر