عنقا ہیں لغزشوں پہ وہ پچھتانے والے لوگ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
عنقا ہیں لغزشوں پہ وہ پچھتانے والے لوگ
تنہائی میں بھی خود سے حیا کھانے والے لوگ
جب تک قدم ہیں راہ پہ ہر موڑ پر جناب!
ملتے رہیں گے آپ کو بہکانے والے لوگ
ہم کو بھی جانا ہوگا کسی دن اسی نگر
آتے نہیں جہاں سے کبھی جانے والے لوگ
الفاظ ضایع ان پہ نہیں کرتے اہلِ ہوش
ہوتے نہیں کسی کے جو کام آنے والے لوگ
کھاتے ہیں جن کی گاتے ہیں ان کی ہی ہر گھڑی
کتنے وفا پرست ہیں گن گانے والے لوگ
کب مانتے ہیں اہلِ جنوں دوسروں کی بات
بے کار پیچھے پڑتے ہیں سمجھانے والے لوگ
مشکل ہے اب جہاں میں ملیں آپ کو سحر
اوروں کے حق کے واسطے لڑ جانے والے لوگ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





