جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

وہ کون ہے جو نہیں دستِ امتحان میں ہے

کلام: ثناء اللہ صادق تیمی22 مارچ، 20201,878قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جو فائدے میں نظر آتا ہے گمان میں ہے
مرے ہی کام کی دولت سے وہ امیر بنا
مرا ہی نام نہیں اس کے خاندان میں ہے
بڑا ذہین ہے قاتل کہ قتل کرتے ہوئے
یہ دیکھتا ہے کہ نقصان کس کی جان میں ہے
تپش کی کون سی شدت کو جھیل کر آیا
جھلس رہا ہے بدن جب کہ سائبان میں ہے
تو شیخ جی کبھی رفعت کا استعارہ ہوے؟
تمام حسن کی دنیا کہاں بیان میں ہے
کسی کی آنکھ میں حسنِ حیا نہیں ملتا
ہوس کا روگی ہی بیٹھا ہوا دھیان میں ہے
اسے ہی کہتے ہیں ساگر شرافتوں کا اثر
حیا میں آنکھ ہے ڈوبی کشش زبان میں ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

وہ کون ہے جو نہیں دستِ امتحان میں ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر