اسلام میں مساجد کی حیثیت دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کی طرح محض عبادت کی ادائیگی کےلیے مختص کی گئی ایک عمارت کی نہیں بلکہ مساجد اسلامی معاشرہ کی دینی،
بندے کا اللہ سے رابطہ دو حوالوں سے ہے۔ایک بندے کی طرف سے عبادت کا دوسرا اللہ کی طرف سے ہدایت کا ہے۔مسجد رابطہ کے ان دونوں حوالوں کا مرکز ہے۔مسجد کی ایک جہت مصلّیٰ کی ہے۔نماز جو اللہ کے سامنے بندگی کے اظہار کا اعلیٰ ترین وسیلہ ہے نماز اس عبادت کی اجتماعی ادائیگی کا مقام ہے۔مساجد کی دوسری جہت منبر کی ہے۔منبر اللہ کی طرف سے اتاری گئی ہدایت کی اشاعت کا مرکز ہے۔منبر تعمیر کردار اور افراد سازی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔مسجد دعوت و اصلاح اور سماجی رابطہ ( social connectivity) کا ایسا زبردست نظام ہے جس کو اگر اُس کی صحیح بنیادوں پر استوار کرلیا جائے تو امّت کو کسی اور نظام کے ایجاد یا امپورٹ کرنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔
مساجد کی اِس اہمیت ہی کے پیش نظر مساجدکی تعمیر پر خصوصی فضیلتوں اور انعامات کے وعدے کیے گئے ہیں۔اگر اسلامی ریاستیں موجود ہیں تو مساجد کی تعمیراور انتظام کی ہر ذمہ داری ریاست کی ہوگی۔اسلامی ریاست کی غیر موجودگی میں یہ ذمہ داری علاقہ کے مسلم افراد کی ہے کہ وہ مسجد کی تعمیر کا انتظام کریں اور اس کو مطلوبہ بنیادوں پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔
الحمد للہ دین سے دوری کے اس دور میں بھی مساجد کے معاملہ میں اہل اسلام کی حساسیت قائم ہے۔ملک بھر میں پھیلی لا تعداد مساجد اس بات کی گواہ ہیں۔دنیا پرستی کے اس دور میں بھی مسلمان اپنی گاڑھی کمائی سے مساجد کی تعمیرکرتے ہیں اور ان کے رکھ رکھاؤ کاسارا خرچ بھی برداشت کرتے ہیں۔وہ مخلصین یقینا مبارکبادی کے مستحق ہیں جو مساجد کی تعمیر اور اس کے انتظام میں اپنا قیمتی مال اور وقت صرف کرتے ہیں۔اُن کو اُن کی محنتوں کا حقیقی صلہ یقینا اللہ دینے والا ہے۔ذیل میں مساجد کے انتظام،
1. اخلاص سے کام کریں۔مسجد کی تعمیر اور اس کی خدمت بڑا ثواب کا کام ہے۔اس عمل کا اجر اگر آخرت میں اللہ سے چاہتے ہیں تو دنیا میں اس عہدہ کو نام کمانے،
2. سب کو ساتھ لے کر چلیں۔خاص کر علاقہ کے اہل علم،
3. عہدہ کو نعمت کے بجائے ذمہ داری سمجھیں۔مسجد کا مقام دین میں بہت بلند ہے اس لیے اس کی تولیت کی ذمہ داری بھی بہت بڑی ہے۔اللہ کے یہاں جواب دہی کا احساس ہمیشہ زندہ رکھیں۔لوگوں میں شبیہ حاکمانہ نہیں خادمانہ بنائیں۔
4. علاقہ کے نوجوانوں کو نظر انداز نہ کریں۔مشورہ اور ذمہ داریوں میں کسی نہ کسی طرح سے ان کو بھی شامل رکھیں۔نوجوانوں کو اگر نظرانداز کیے جانےکا احساس ہوگا تو وہ مسجد سے الگ گروپ بنالیں گے۔اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔
5. غیر منہجی بالخصوص تحریکیوں سے ہوشیار رہیں۔یہ پہلے تعاون کے بہانے مسجد اور اس کے ذمہ داروں کے قریب آتے ہیں پھر آہستہ آہستہ اپنے لوگوں کو مسجد میں داخل کرکے مسجد اور خاص کر منبر پر قبضہ جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔
6. مسجد کے دعوتی امور کی ترتیب کے لیے مستند اور تجربہ کار علماء سے مسلسل رابطہ میں رہیں۔علاقہ یا علاقہ سے قریب رہائش رکھنے والے کسی ایک مستند عالم کو مسجدکے دعوتی امور کا نگراں بنا لیں۔
7. منبر اللہ اور بندوں کےبیچ سب سے گہرا ربط ہوتا ہے۔منبرکا تقدس ہمیشہ ذہن میں رکھیے۔غیر مستند،
8. مسجدکے منبر پر غیر علماء کو کھڑا نہ کریں۔مسجدکے منبر پر کھڑے ہونے کا حق یا تو جماعت کے مستند ادارہ سے فارغ عالم دین کا ہے یا پھر ایسے شخص کا جو کسی مدرسہ سے فارغ نہ بھی ہو تو جماعت کے علماء اور جمعیت کے ذمہ داران اس کی توثیق کرتے ہوں۔اگر منبر پر کھڑا ہونے کے لیے علم،
9. امام مسجدکے ادارےکا سربراہ اور مسجد کے اجزائے ترکیبی کا سب سے اہم جز ہے۔کسی بھی مسجد کے مصلیان اور سامعین کے دینی مزاج اور علمی معیار پر سب سے گہرا اثر امام کا ہوتا ہے۔امامت کا منصب بہت اعلیٰ ہے۔اس کو ہلکا نہ سمجھیں۔آخری حد تک مسجد کو اچھے سے اچھا امام فراہم کرنے کی کوشش کریں۔
10. منتظمین اور مصلّیان کی بداخلاقی،
11. اس مہنگائی کے دورمیں کم از کم اتنی تنخواہ دیں جس سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر ایک عالم دین اور اس کے بال بچوں کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوسکیں۔ممبئی جیسے شہر میں رہائش کے ساتھ کم از کم بیس ہزار مناسب تنخواہ ہے۔علاقہ کے اعتبار سے یہ فیگر کم زیادہ ہوسکتا ہے۔مساجد میں امامت کرنے والے اکثر علماء اپنا گھر بار چھوڑ کر آتے ہیں۔اپنی فیملی کے علاوہ گائوں میں رہ رہے ماں،
اتنی تنخواہ فراہم کرنے کے لیے مالی تنگدستی بہانہ ہوسکتی ہے حقیقت نہیں۔اُمّت کے پاس مال کی کمی نہیں،
12. امام کے لیے فیملی کے ساتھ رہائش کا بندوبست لازمی کریں۔مسجدکی تعمیر کے وقت ہی یہ بات ذہن میں رکھیں کہ امام کے لیے علیحدہ کمرے کا انتظام بھی مسجد کی عمارت میں ہوجائے۔اپنے بال بچّوں کے ساتھ زندگی گذارنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔افسوس کی بات ہے کہ ائمہ جو ہمارے دینی رہنما ہیں ہم ان کو زندگی کا یہ بنیادی حق بھی فراہم نہیں کرتے۔مہاجر بھی کم سے کم اپنے گھر والوں کے ساتھ ہجرت کرتا ہے۔ائمہ کا معاملہ تو ان سے بھی بدتر ہوتا ہے۔تیس سال امامت کرنے والے امام کو سال میں ایک مہینے کے حساب سے اپنے گھر والوں کے ساتھ گذارنے کے لیے کل ملا کر تین سال بھی پورے میسر نہیں ہوتے۔
دینی رہنمائی اور اصلاح کاکام کرنے کے لیے جس ذہنی سکون اور سماجی شعور کی ضرورت ہے وہ قیدی کی طرح زندگی بسر کررہے کسی امام کو میسر نہیں ہوگا۔اہل خانہ سے اتنی لمبی مدّت تک دور رہنا شرعی نقطہ نظر سے بھی ٹھیک نہیں۔اولاد کی تربیت کے حوالے سے بھی یہ غلط ہے اور جسمانی صحّت کے اعتبار سے بھی نقصاندہ۔بے راہ روی کے دروازے بھی اس سے کھلتے ہیں۔سال سال بھر اپنی بیوی سے دور رہنے والا امام کس منہ سے نوجوانوں کو جلدی شادی کرنے کا حکم دے گا تاکہ ان کی نظریں جھک جائیں اور ان کی شرم گاہ محفوظ ہوجائے۔
13. امامت پیشہ نہیں منصب ہے۔امام مسجد کے ذمہ داران اور مصلیان کا نوکر یا غلام نہیں پورے علاقہ کا دینی رہنما ہوتا ہے۔اس منصب کے تقدس کا خیال رکھیں۔امام کی عزّت نفس کو مجروح کرکے اس منصب کے تقدس کو تار تار نہ کریں۔اس کو مشورہ دینے،
14.امام کی ذمہ داری صرف نماز پڑھانے کی نہیں ہوتی۔وہ مرحلہ وار خطبے،
ہم نے خطبات جمعہ کو اصلاح اور دعوت کا وسیلہ سمجھنے کے بجائے تفریح کا ذریعہ بنا لیا ہے اور تفریح بغیر تنوّع کے تو حاصل کی نہیں جاسکتی۔اس لیے بڑے شہروں میں تیزی کے ساتھ یہ مزاج بنتا جارہا ہے کہ امام صرف نماز پڑھانے کے لیے ہوتا ہے اور خطبے کی ذمہ داری ائمہ کے بجائے بدل بدل کر الگ الگ خطباء انجام دے رہے ہیں۔تربیت کے نقطہ نظر سے یہ طریقہ نقصاندہ ہے۔اصلاح اور تربیت ایک مدّت طلب اور مرحلہ وار عمل ہے۔آپ کے بیچ رہنے والا،
15. بات بات پر امام بدلنا بطور منتظم آپ کے ناکام ہونے کی دلیل ہے۔دنیا میں کوئی انسان کامل نہیں۔ائمہ سے بھی سو فی صد پرفیکشن کی اُمّید نہ رکھیں۔کچھ نہ کچھ خامیاں ہر کسی میں ہوتی ہیں۔ائمہ میں بھی رہیںگی۔امام کی صورت میں ہر مسجد کے ذمہ داران کو قرات میں شیخ سدیس،
16. مسجدکے ٹرسٹی ہونے کامطلب مفتی ہونا نہیں ہوتا ہے۔مسجدکی انتظامی ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر رکھیں،
17. مسجد کی صفائی بہت ثواب کا کام ہے۔یہ ثواب خود کمائیں یا پھر اس کے لیے مسجد میں علٰیحدہ خادم رکھیں۔امام صاحب کو اس کام کے لیے زحمت نہ دیں۔ہمارے دور کے عرف کے حساب سے امام کو مسجدکی صفائی ستھرائی کا کام دینا اس کے مرتبہ اور مقام کے خلاف ہے۔
18. علم اور صلاحیت کسی جامعہ،
19. ہر مسجد کے سامعین چاہتے ہیں کہ مسجدکے دروس اور خطبے مواد سے بھر پور اور تحقیقی ہوں لیکن امام کے پاس خطبہ کی تیاری کے لیے صرف گنتی کی کچھ کتابیں ہوتی ہیں۔ہر مہینے کتابوں کی خریداری کےلیے بجٹ امام صاحب کو فراہم کریں۔اس زمانہ میں علم کے حصول اور تحقیق کا بہت بڑا ذریعہ کمپیوٹر کی ڈیجٹل لائبریریز اور انٹرنیٹ ہیں۔لائبریریوں کے فقدان کی وجہ سے شہروں میں تو علم و تحقیق کے جویا عالم کےلیے کمپوٹر واجب کے درجہ میں ہے۔آپ امام سے علمی مواد سے پُر،
20. ہر شکوہ امام تک پہنچانے،
21. عناوین کے انتخاب اور خطبہ کی تیاری کے لیے امام کو آزادی دیں۔امام قوم کا نباض ہے۔اس کو پتہ ہے کہ اصلاح کس کی اور کیسی کرنی ہے۔اس کے کام میں اس کو مشورہ دیں،
22. ٹرسٹیان کو خود بھی چاہیے کہ وہ مسجد سے جڑے ہیں۔اگر نمازی ہیں تو کوشش کریں کہ ساری نمازیں یا روزانہ کم از کم دو تین نمازیں تو اپنی مسجد ہی میں ادا کریں۔اگرٹرسٹی خود بے نمازی ہے تو اس کو حق نہیں مسجدکی ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں پر رکھے۔یا تو اپنی اصلاح کرے یا حق حق دار کو دے کر خود فارغ ہوجائے۔
23. ملک کی انتخابی سیاست سے مسجدکو دور رکھیں۔سیاست کے لیے نہ خود مسجد کا استعمال کریں نہ کسی کو استعمال کرنے کا موقع دیں۔علاقائی نیتاؤں کو بھی ضرورت سے زیادہ مسجد کے معاملہ میں دخل اندازی کی اجازت نہ دیں۔
24. مساجد علاقہ کی خواتین کی اصلاح کا بھی بڑا ذریعہ ہیں۔خواتین میں دعوت اور اصلاح کےلیے بھی مسجد کے امام اور علماء سے مل کر لائحہ عمل ترتیب دیں۔ان کی ضرورت اور وقت کے حساب سے پروگرام رکھیں۔جمعہ کے خطبہ اور نماز میں ان کی شرکت کے لیے گنجائش بنائیں۔مخصوص مسائل میں ان کی تربیت اور رہنمائی کے لیے مستند عالمات کے دروس کا اہتمام کریں۔
25. بچّوں کی تربیت اور تعلیم میں مساجدمیں قائم مکاتب کا بڑا رول ہے۔خاص کر ایسے ماحول میں جب بیشتر اسکول نصاب سے لے کر نظام تک ہر چیز کے ذریعہ بے دینی اور الحاد کا زہر بچوں کے دماغ میں گھول رہے ہیں یہ مکاتب اس زہر کا بڑا تریاق ہیں۔مکاتب کی یہ روایت کم ہوتے ہوتے آج ختم ہونے کے دہانے پر آ پہنچی ہے۔اس روایت کو دوبارہ زندہ کریں اور پورے نظم و ضبط اور نصاب کے ساتھ اس کو جاری کریں۔
26. دیگر مسالک کے لوگوں اور ان کی مساجد کے ائمہ کے ساتھ تعلقات خوشگوار رکھیں۔اپنی تقریبات میں ان کو بلائیں۔مناظرانہ ماحول بنانے سے گریز کریں۔اتحاد کی فضا قائم کریں۔اسٹیج پروگرام میں اختلافی موضوعات پر بات کرنے سے گریز کریں۔اس سے دعوت کے بجائے نفرت پنپتی ہے اور دیگر لوگوں میں مسلمانوں کے انتشار کا پیغام جاتا ہے۔خطبات میں بھی اختلافی موضوعات پر ایک حد تک ہی بات ہونی چاہیے اور جو بات ہو وہ بھی علمی لہجہ میں سنجیدگی کے ساتھ ہو۔مناظروں سے صرف ماحول آلودہ اور تعلقات خراب ہوتے ہیں۔دعوت کو فائدہ کم ہی پہنچتا ہے۔
27. کم از کم دو نمازوں کے بعد دروس کا اہتمام کریں۔عقیدہ،
28. مسجد میں بیت المال کا قیام کریں خواہ چھوٹے ہی پیمانے پر۔مختلف موقعوں پر رفاہی کام کرتے رہیں۔سماجی خدمت دین میں بھی مطلوب ہے اور اس سے مسجد کی شبیہ علاقہ کے لوگوں میں اچھی بنے گی جو دعوت کے لیے بہت موثر ہے۔
29. مالی معاملات صاف رکھیں۔حساب کتاب میں اتنی ٹرانسپرینسی رکھیں کہ کسی کے لیے الزام لگانے کی گنجائش نہ بچے۔سال یا چھ مہینے میں حساب دینے کے لیے عوامی میٹنگ رکھیں۔
30. دین سے دور لوگوں کو دین سے جوڑنے کا نام دعوت ہے۔مسجد میں جو دعوت کا کام ہوتا ہے اس کا دائرہ تو مسجد سے جڑے ہوئے لوگوں تک ہی محدود رہتا ہے۔۔وہ افراد جو مسجد سے جڑے نہیں ہیں دین سے دور ہیں ان کو مسجد سے جوڑنے اور دین سے قریب لانے کی کوشش کریں۔ممکن ہو تو علاقہ میں مسجد سے باھر کسی میدان،
31. دعوت کے مقصد سے اور علاقہ کے لوگوں کو مسجد سے جوڑ کر رکھنے کےلیے جدید ٹیکنالوجی کا بھر پور استعمال کریں۔علاقہ میں جماعت کے تمام لوگوں کا فون نمبر جمع کرنے کی کوشش کریں۔واٹس اپ گروپ،
32. مساجد میں شعبہ حفظ کے قیام کے بہترین نتائج دیکھنے میں آرہے ہیں۔چھوٹی چھوٹی مسجدوں میں قائم غیر اقامتی حفظ کے شعبوں سے اسکول میں پڑھنے والے بچے چار پانچ سال میں حفظ مکمل کرلیتے ہیں۔عزم اور اخلاص کے ساتھ اپنی مسجد میں بھی ایسے حفظ کے شعبے قائم کریں۔
33. علاقہ کے کفّار کی نظر میں بھی مسجد کی شبیہ کو مثبت بنا کر رکھیں۔ان کے ساتھ تعلقات اچھے رکھیں۔اپنی تقریبات میں ان کو مدعو کریں۔ان کے ضرورتمندوں کا تعاون کریں۔رواداری اور حسن سلوک کی ایسی فضا بنائیں جو ان کو دین سے قریب لانے میں معاون ہو۔ان میں دعوت کا کام کریں لیکن اس طریقہ سے کہ ماحول کسی طرح کے فتنہ و فساد سے خراب نہ ہو۔
34. مسجد کی تولیت اور مصلیان کی خدمت بہت سعادت کا کام ہے،
35. ملک کے سیاسی حالات جس رخ پر ہیں اس کے پیش نظر مسجد اور مدرسہ کے رجسٹریشن میں بالکل کوتاہی نہ برتیں۔سرکاری طور پر سارے کاغذات مکمّل کرکےرکھیں تاکہ آئندہ مسجد ہر طرح کے خطرہ سے محفوظ رہے۔
36. مسجد اللہ کا گھر ہے۔اس کے انتظام اور رکھ رکھاؤ میں چوری کی گنجائش قطعی نہیں۔ہڑپی ہوئی زمین پر مسجد تعمیر کرنے سے پرہیز کریں۔تعمیر کر بھی لی ہے تو جس کا حق ہے اس کو لوٹا دیں۔خواہ زمین کی صورت میں یا رقم کی صورت میں۔چوری کی لائٹ اور پانی کا کنیکشن مسجد کے لیے استعمال کرنا بڑا گناہ ہے۔مناسب طریقہ سے لائٹ اور پانی کا کنیکشن لیں اور بل وقت پر بھر دیا کریں۔





