گونجتا کانوں میں ہے کچھ روبرو کچھ بھی نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
گونجتا کانوں میں ہے کچھ روبرو کچھ بھی نہیں
ہاؤ ہو چاروں طرف ہے گفتگو کچھ بھی نہیں
کوزہ گر نے چاک کی مٹی کو پھر تنبیہ کی
میں ہی ہوں جو کچھ بھی ہوں نادان تو کچھ بھی نہیں
یوں تو ہیں دست و گریباں دل میں ساری خواہشیں
موت زندہ جب تلک ہے آرزو کچھ بھی نہیں
سانسِ جانِ جاناں بھی جب موت کا پیغام ہو
دود بھر لو حلق تک اب مشک بو کچھ بھی نہیں
خون کی بوندوں پہ تھا چارہ گروں کا انحصار
خشک تھیں میری نسیں نکلا لہو کچھ بھی نہیں
اے سرابِ عکس پر اِترانے والے بے خبر
سب فریبِ چشم ہے یاں ہو بہو کچھ بھی نہیں
برف کے میدانوں میں ہے ثبت پیروں کی دَھسَن
وزن ہے بارِ انا کا عِلمِ ہو کچھ بھی نہیں
چڑھتے سورج کو سلامی ڈوبتے کو کچھ نہیں
شمسؔ کی بس حیثیت ہے آبرو کچھ بھی نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





