وفا وعدہ میں اپنا کر رہا ہوں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وفا وعدہ میں اپنا کر رہا ہوں
جگر کو پارہ پارہ کر رہا ہوں
تہی دامان ہو کر اس جہاں میں
میں اپنا ہی خسارہ کر رہا ہوں
میں شاہیں تھا مگر بے وصف ہوں اب
جہاں میں بس گزارا کر رہا ہوں
مرے پر ہیں کٹے سارے کے سارے
پر اڑنے کا ارادہ کر رہا ہوں
بھلا کر جادۂ اسلاف کو ہی
میں اپنے ساتھ دھوکہ کر رہا ہوں
چراغوں کو جلاکر کو بہ کو میں
اندھیروں پر اجارہ کر رہا ہوں
ظہیر اب بادہ و ساغر نہ بھائے
میں محفل سے کنارہ کر رہا ہوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





