توہم پرستی اس دنیائے آب و گِل میں تبھی سے پائی جاتی ہے جب سے یہ دنیا بنائی گئی اور توہم پرستی ہر دور میں اپنے چولے بھی بدلتی رہی۔ابتدائی ادوار میں ہر طرح کے مافوق الفطری عناصر کے لیے مختلف اور الگ الگ توہمات رائج تھیں،
بڑے بڑے پہاڑ،
انسانی تاریخ اور عمرانیات سے معمولی واقفیت رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ اس توہم پرستی نے دنیا کے الگ الگ حصّوں میں کیا کیا گُل کھلائے ہیں؟؟؟ مصری تہذیب کی مشہور علامت "اہرامِ مصر" (ابوالہول) اور موہن جوداڑو کی یادگار میں "گائے" اور "آگ" کا تقدس اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔جبکہ مغربی تہذیب وثقافت میں"بوم" (اُلُّو) کی اہمیت سے انکار ناگزیر ہے۔
زمانہ جاہلیت میں بیوہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا تھا،
ماضی بعید میں نجد کے قریب واقع شہر درعِیَّہ میں کجھور کے "نر درختوں" کی کنواری لڑکیاں اس بھرم میں عبادت کیا کرتی تھیں کہ اُنھیں بھی اسی درخت کی طرح بالکل سیدھا سادھا شوہر ملے گا،
سچ بات تو یہ ہے کہ توہم پرستی ہم ہندوستانیوں کی معمولاتِ زندگی کا جزوِ لاینفک بن چکی ہے،
یہ اکیسویں صدی سائنس اور ٹیکنالوجی کی بہتات اور فراوانی والی صدی کہی جاسکتی ہے لیکن اس عہد میں بھی ہم اپنے سماج اور معاشرے میں پائے جانے والے مختلف قسم کے توہمات سے چھٹکارا نہیں حاصل کرسکے ہیں۔
ہندوستانی معاشرے میں توہمات کو فروغ دینے میں سیاسی شخصیات نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔چند نجومیوں کی یہ بے ہودہ پیشین گوئی کہ "3/فروری 1962ء/ کو ساڑھے پانچ بجے دنیا فنا ہوجائے گی" اس بات کا سبب بنی کہ کئی ٹن گھی"ہون" کرنے میں برباد کردی گئی۔1999ء/ میں بھی ایک سرپھرے نے اسی طرح کی ایک لایعنی پیشین گوئی کرکے عوام اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور آج بھی ہمارے حکمراں ہمیں "کرونا" جیسی مہلک بیماری سے لڑنے اور بچنے لیے"شنکھ"،
ألیس منکم رجلٗ رشید!!!





