جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کتنی یادوں کے نشاں ہیں دامنِ نم گیر پر

کلام: فائز بلرامپوری10 اپریل، 20202,034قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کتنی یادوں کے نشاں ہیں دامنِ نم گیر پر
کب تلک گرتا رہے گا اشک اس تصویر پر
اے شعاعِ مہر وماہِ دہر تجھ کو کیا خبر
کیا گزرتی ہے شبِ وحشت مری تقدیر پر
لکھ رہا ہوں ہجرتوں کی داستانِ نا تمام
میرے ہاتھوں کے لہو شاہدہیں اس تحریر پر
سب کے سب ہیں شہر میں ناآشنائے حالِ دل
کون دیباچہ لکھے گا زخم کی تفسیر پر
کیا سنائیں آج اپنے شہرِ خواییدہ کا حال
خواب پر قدغن لگے ہیں بندشیں تعبیر پر
بے نیازانہ پھرا ہوں اشتہاء و شوق سے
یوں بھی کیا جینا کہ حرف آجائے خود توقیر پر
عشق میں وہ عاجزی سے ہوگئے محوِ غضب
میں نے بھی لب رکھ دیا اس دستِ دامن گیر پر
اب کہاں ہیں وہ نشان ِعظمت عہدِ کہن
اب کہاں روتے ہیں ہم اجداد کی جاگیر پر
تم ہی کیا فائز یہاں اہل ِسخن ہیں زیر ِطعن
بھپتیاں کستے ہیں اب بے ذوق ذوقِ میر پر
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کتنی یادوں کے نشاں ہیں دامنِ نم گیر پر - دی فری لانسر | دی فری لانسر