جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

بہکے قدم مجال ہے غم ہو کہ انبساط

کلام: سحر محمود10 اپریل، 20202,013قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بہکے قدم مجال ہے غم ہو کہ انبساط
یکساں ہمارا حال ہے غم ہو کہ انبساط
دریائے زندگی میں تو آتا ہے مد و جزر
سب وقت کا کمال ہے غم ہو کہ انبساط
اوقات اپنی جانتا پہچانتا ہے دل
قائم بہ اعتدال ہے غم ہو کہ انبساط
اپنوں کی قدر کیوں نہ کریں جب کہ دوستو!
ہم پر ہی دیکھ بھال ہے غم ہو کہ انبساط
ہر وقت سوتے جاگتے آنکھوں کے سامنے
خوابوں کا ایک جال ہے غم ہو کہ انبساط
کیسے حواس باختہ ہوجاتے ہیں سبھی
سب سے بڑا سوال ہے غم ہو کہ انبساط
اس سے کبھی نہ ٹوٹے مرا رابطہ سحر
ہر آن یہ خیال ہے غم ہو کہ انبساط
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

بہکے قدم مجال ہے غم ہو کہ انبساط - دی فری لانسر | دی فری لانسر