سحؔر! تمھارے جو دل کا غبار ختم نہ ہو
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اسے تم اتنا پکارو پکار ختم نہ ہو
خداے پاک مجھے ایسی بندگی دے دے
“کروں وہ حمد کہ جس کا شمار ختم نہ ہو”
ہے اس طرح سے مری زندگی پہ قرض اس کا
میں جان دے بھی دوں پھر بھی ادھار ختم نہ ہو
کوئی نہیں ہے جہاں میں ترے سوا مولی!
وہ ذات جس پہ مرا اعتبار ختم نہ ہو
تمام عمر میں محتاج بس ترا ہی رہوں
دعا یہ ہے کہ کبھی انحصار ختم نہ ہو
یہ خاصیت تو فقط ربِّ کائنات کی ہے
کہ عاصیوں سے کبھی جس کا پیار ختم نہ ہو
مجھے وہ زیست عطا کر مرے خدا! جس پر
کبھی بھی تیرے کرم کی پُھوَار ختم نہ ہو
سحؔر! اسی پہ ہے دار و مدار دنیا کا
اور اس طرح سے کہ دار و مدار ختم نہ ہو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





